تہران: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے دورے کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اپنے ہم منصب اسکندر مومنی سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں، جن میں پاکستان ایران دوطرفہ تعلقات، وزارت داخلہ کی سطح پر جاری تعاون اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق محسن نقوی اور اسکندر مومنی نے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں جاری تعاون کا جائزہ لیا۔ ایرانی وزیر داخلہ نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی جانب سے علاقائی امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ یہ موقف ایرانی عہدیدار کے حوالے سے جاری بیان میں نقل کیا گیا، اس لیے اسے ایران کی سرکاری رائے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
بعد ازاں محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات اور خطے کی صورتحال زیر بحث آئی۔ پاکستانی وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد تہران کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مضبوط کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کی سطح پر کام جاری رکھا جائے گا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث علاقائی سفارت کاری میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان حالیہ مہینوں میں ایران اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں رہا ہے اور حکومت اپنے کردار کو کشیدگی کم کرنے، بات چیت کی حمایت اور علاقائی استحکام سے جوڑتی رہی ہے۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دورے سے قبل واضح کیا تھا کہ محسن نقوی کا دورہ بنیادی طور پر دوطرفہ تعلقات کے لیے ہے اور کسی مخصوص ثالثی پیغام کے تبادلے کا کوئی طے شدہ منصوبہ نہیں۔
اس وضاحت کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ پاکستان نے رواں سال امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں کی حمایت کی اور جولائی میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی عمل سے متعلق سفارتی سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا۔ موجودہ ملاقاتوں کے بارے میں دستیاب سرکاری بیانات میں کسی نئے معاہدے، باضابطہ ثالثی فارمولے یا فوری پالیسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان ایک طویل مشترکہ سرحد ہے اور دونوں ملک سرحدی انتظام، اسمگلنگ، سکیورٹی، تجارت اور عوامی آمدورفت جیسے معاملات پر وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کی سطح پر تعاون کرتے ہیں۔ حالیہ ملاقات میں بھی جاری تعاون کا جائزہ لینے کی بات کی گئی، مگر کسی نئے مخصوص منصوبے یا ٹائم لائن کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دونوں حکومتوں کی جانب سے مستقبل کے روابط بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس دورے کے عملی نتائج کا تعین آئندہ سرکاری اعلانات، مشترکہ ورکنگ میکانزم یا طے پانے والے مخصوص اقدامات سے ہوگا۔
