سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس میں ملک بھر کی عدالتوں کے لیے یکساں اور معیاری ای فائلنگ نظام تیار کرنے کے اگلے مرحلے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ڈان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس نے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے پنجاب بار کونسل اور اسلام آباد بار کونسل کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ مجوزہ نظام ابھی تیاری اور مشاورت کے مرحلے میں ہے، اسے مکمل طور پر نافذ شدہ ملک گیر پلیٹ فارم نہیں سمجھا جاسکتا۔

مشاورت کا مقصد سپریم کورٹ، تمام ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں مقدمات اور دستاویزات الیکٹرانک طور پر جمع کرانے کے لیے ایک ایسا قومی فریم ورک بنانا ہے جو متعلقہ قانونی اور عدالتی طریقۂ کار سے ہم آہنگ ہو۔ شرکا کو مجوزہ نیشنل اسٹینڈرڈائزڈ ای فائلنگ سسٹم کے بنیادی خدوخال سے آگاہ کیا گیا، جسے منظم، ذہین اور قواعد کے مطابق پلیٹ فارم کے طور پر تشکیل دینے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وکلا مجوزہ نظام کے بنیادی صارفین میں شامل ہیں، اس لیے ٹیمپلیٹس، مراحل اور عملی استعمال کی تیاری میں بار اداروں کی رائے ضروری ہے۔ انہوں نے نمائندوں سے کہا کہ نظام کو قابل رسائی، آسان اور روزمرہ عدالتی ضروریات کے مطابق بنانے کے لیے عملی تجاویز دیں۔ پنجاب اور اسلام آباد بار کونسلوں کے نمائندوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے عدالتی استعمال سے متعلق مختلف نکات پیش کیے۔

وکلا کی تجاویز میں معیاری فارم اور ٹیمپلیٹس، مقدمات کا الیکٹرانک ریکارڈ، عدالتی دستاویزات کی ڈیجیٹل جمع آوری، کیس کی پیش رفت دیکھنے کی سہولت، تکنیکی مدد اور تربیت، مطلوبہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور معلومات کے تحفظ کے اقدامات شامل تھے۔ ای فائلنگ صرف کاغذی درخواست کو اسکین کرکے اپ لوڈ کرنے کا نام نہیں؛ مؤثر نظام میں فائل کی شناخت، وقت کی تصدیق، فیس، متعلقہ عدالت اور شاخ کا انتخاب، اعتراضات کا جواب، نوٹس اور مقدمے کے ریکارڈ کا محفوظ انتظام بھی واضح ہونا چاہیے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرار اور ہر صوبائی بار کونسل کے دو نامزد ارکان، نیز اسلام آباد بار کونسل کے دو نمائندوں پر مشتمل کمیٹی معیاری ای فائلنگ ٹیمپلیٹس کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دے گی۔ مکمل ہونے کے بعد یہ ٹیمپلیٹس نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے سامنے غور اور پالیسی ہدایات کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ اس مرحلہ وار طریقے سے واضح ہے کہ موجودہ اجلاس نے حتمی نفاذی منظوری نہیں دی۔

ملک گیر یکسانیت سے وکلا اور سائلین کو مختلف عدالتوں میں الگ الگ فارم اور طریقۂ کار سمجھنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے، جبکہ ڈیجیٹل ٹریکنگ سے دستاویز جمع ہونے اور اعتراض یا سماعت کی کیفیت زیادہ واضح ہوسکتی ہے۔ تاہم دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ، اسکیننگ اور تکنیکی سہولت کی کمی، ڈیجیٹل خواندگی، زبان، معذور افراد کی رسائی اور سائبر سکیورٹی اہم عملی چیلنج ہوں گے۔ نظام کو ایسے افراد کے لیے معاون کاؤنٹر یا متبادل راستہ بھی دینا ہوگا جو براہ راست آن لائن فائلنگ نہیں کرسکتے۔

عدالتی ڈیٹا میں ذاتی، تجارتی اور بعض اوقات حساس معلومات شامل ہوتی ہیں، اس لیے رسائی کے درجے، شناخت کی تصدیق، محفوظ ذخیرہ، بیک اپ، لاگنگ اور ممکنہ ڈیٹا خلاف ورزی پر ردعمل کے قواعد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ شائع شدہ رپورٹ نے سافٹ ویئر، بجٹ، نفاذ کی تاریخ یا تکنیکی فراہم کنندہ کی تفصیل نہیں دی۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت بار کونسلوں کے ساتھ مشاورت، مجوزہ قومی فریم ورک کی پیشکش اور رجسٹراروں و بار نمائندوں کی مشترکہ کمیٹی کو ٹیمپلیٹس حتمی بنانے کی ذمہ داری دینا ہے۔ ملک گیر آغاز، لازمی استعمال اور پرانے مقدمات کی منتقلی کا فیصلہ آئندہ پالیسی ہدایات اور نفاذی منصوبے سے واضح ہوگا۔