اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹرز G-10 اور E-11 میں تین مبینہ غیرقانونی کال سینٹرز پر چھاپوں کے دوران 212 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق زیر حراست افراد میں پاکستانی اور چینی مرد و خواتین شامل ہیں اور کارروائی ایک مبینہ بین الاقوامی آن لائن فراڈ نیٹ ورک کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی۔

NCCIA کے ترجمان کے مطابق چھاپوں کے دوران 306 موبائل فون، 383 کمپیوٹر یا سی پی یو، اور 299 مانیٹر و لیپ ٹاپ برآمد کیے گئے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ ان مراکز سے مختلف آن لائن طریقوں کے ذریعے لوگوں کو ہدف بنایا جاتا تھا، جن میں گوگل سے متعلق فراڈ، قرض اور ڈیٹنگ اسکیمیں، جعلی سوشل میڈیا پروفائلز اور مبینہ جعلی ٹریڈنگ آفرز شامل تھیں۔ یہ تمام دعوے تفتیشی ادارے کے ابتدائی مؤقف پر مبنی ہیں اور زیر حراست افراد کے خلاف جرم کا حتمی تعین عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

ترجمان نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں نیٹ ورک کے بھارت اور برازیل سے ممکنہ روابط کے اشارے بھی ملے ہیں، تاہم ان روابط کی نوعیت اور دائرہ ابھی زیر تفتیش ہے۔ G-10 میں دو مبینہ کال سینٹرز پر کارروائی کی گئی، جہاں حکام کے مطابق مختلف آن لائن اسکیمیں استعمال کیے جانے کا شبہ ہے۔ بڑی تعداد میں افراد کو حراست میں لیے جانے کے باعث متعلقہ کال سینٹر کے احاطے کو مزید قانونی کارروائی کے لیے عارضی سب جیل قرار دیے جانے کی اطلاع بھی دی گئی۔

APP کے مطابق 212 مشتبہ افراد کے خلاف متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں سات چینی شہری بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ تفتیش کا اگلا مرحلہ مبینہ نیٹ ورک کے مالی روابط، ڈیجیٹل ریکارڈ، آن لائن اکاؤنٹس اور ہر زیر حراست شخص کے انفرادی کردار کا تعین کرنا ہے۔ ضبط کیے گئے کمپیوٹرز، موبائل فونز اور دیگر آلات کی فارنزک جانچ اس تحقیقات کا اہم حصہ ہوگی۔

اس کارروائی کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ سائبر فراڈ میں استعمال ہونے والے کال سینٹرز اکثر سرحد پار مواصلاتی ذرائع، جعلی شناختوں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مالیاتی چینلز کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم کسی بھی بین الاقوامی رابطے یا منظم نیٹ ورک کی موجودگی کا حتمی نتیجہ جاری تحقیقات سے سامنے آئے گا۔ NCCIA نے فی الحال گرفتاریوں، ضبطی اور ابتدائی الزامات کی تفصیلات جاری کی ہیں؛ عدالتی فیصلے یا حتمی تفتیشی نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔