نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے شمالی اور بالائی پاکستان کے متعدد علاقوں میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران فلیش فلڈ، ندی نالوں میں اچانک طغیانی اور شہری سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق الرٹ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، پنجاب اور پوٹھوہار کے مختلف حصوں کے لیے جاری کیا گیا، جہاں متوقع بارشیں دریاؤں، مقامی نالوں اور پہاڑی آبی گزرگاہوں میں بہاؤ بڑھا سکتی ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان میں گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، اسکردو، استور اور شگر سمیت متعدد اضلاع میں بارش کے نتیجے میں فلیش فلڈ کا خدشہ ہے۔ پہاڑی جغرافیے کے باعث ان علاقوں میں مختصر دورانیے کی شدید بارش بھی مقامی ندی نالوں اور ڈھلوانوں پر تیز بہاؤ پیدا کرسکتی ہے۔ حکام نے مسافروں اور سیاحوں کو موسم اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات سے باخبر رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب کے شمالی حصوں میں بھی بارش کے ساتھ مقامی سیلاب اور شہری آبگرفتگی کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ پوٹھوہار اور گنجان شہری علاقوں میں نکاسی آب کے نظام پر دباؤ بڑھنے کی صورت میں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوسکتا ہے۔ این ڈی ایم اے نے متعلقہ صوبائی اور ضلعی اداروں کو صورتحال کی نگرانی، ہنگامی عملے اور مشینری کی دستیابی اور خطرے سے دوچار آبادیوں تک بروقت انتباہ پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پاکستان محکمہ موسمیات نے بھی بالائی علاقوں میں مون سون ہواؤں اور مغربی موسمی سلسلے کے امتزاج سے وقفے وقفے سے بارش، آندھی اور گرج چمک کی پیش گوئی کر رکھی ہے۔ بعض مقامات پر شدید بارش کا امکان ہے، جس سے اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور جیسے شہروں کے نشیبی حصوں میں شہری سیلاب جبکہ کشمیر، مری، گلیات اور شمالی پہاڑی علاقوں میں فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ موسمی انتباہ کسی مخصوص مقام پر سیلاب آنے کی یقینی پیش گوئی نہیں بلکہ خطرے کی سطح بڑھنے کا اشارہ ہے۔ بارش کی اصل شدت، دورانیہ اور مقامی زمینی حالات یہ طے کریں گے کہ کہاں پانی خطرناک حد تک بڑھتا ہے۔ اسی لیے ندی نالوں، عارضی پلوں اور تیز بہاؤ والی گزرگاہوں کو عبور کرنے سے گریز کرنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے شہریوں کو سرکاری موسمی اور ڈیزاسٹر الرٹس کی نگرانی کرنے، غیر ضروری سفر سے بچنے اور پہاڑی یا سیلاب کے خطرے والے علاقوں میں اضافی احتیاط کی ہدایت کی ہے۔ متعلقہ اداروں کے لیے اگلے دو دن اہم ہوں گے کیونکہ بارش کی شدت اور مقامی آبی بہاؤ کے مطابق خطرے کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے۔




