اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی وہیلنگ نیلامی کے طریقۂ کار میں ترامیم منظور کرتے ہوئے پہلی 400 میگاواٹ نیلامی میں حصہ لینے والے شمسی اور ہوائی بجلی منصوبوں کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) لازمی قرار دے دیا ہے۔ منظور شدہ شرط کے مطابق منصوبے کے مقام پر نصب بیٹری کی فرم صلاحیت متعلقہ شمسی یا ہوائی پیداواری سہولت کی فرم صلاحیت کے کم از کم 10 فیصد کے برابر ہونا ضروری ہوگی۔

نیپرا کے 4 ستمبر کے تعین کے مطابق وفاقی پاور ڈویژن پہلی نیلامی کا حجم پہلے طے شدہ 200 میگاواٹ سے بڑھا کر 400 میگاواٹ کر چکا ہے، جبکہ مجموعی منظور شدہ وہیلنگ مقدار 800 میگاواٹ برقرار رہے گی۔ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر آف پاکستان (آئی ایس ایم او) کے تخمینے کے مطابق 400 میگاواٹ کے پہلے بلاک پر 10 فیصد شرط تقریباً 40 میگاواٹ فرم بیٹری صلاحیت اور، قابلِ اطلاق چار گھنٹے اخراج کی مدت کے تحت، قریب 160 میگاواٹ آور توانائی ذخیرے کے مساوی ہو سکتی ہے۔ اصل تنصیب ہر کامیاب منصوبے کی فرم صلاحیت کے حساب سے طے ہوگی۔

آئی ایس ایم او کی ماڈلنگ میں بیٹری نظام کو دن کے اوقات میں اضافی قابلِ تجدید بجلی سے چارج اور زیادہ طلب کے وقت ڈسچارج کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ تخمینے کے مطابق اس سے نظام کی سطح پر ہوائی بجلی کی کٹوتی تقریباً 0.3 فیصد پوائنٹ اور شمسی بجلی کی کٹوتی تقریباً 1.1 فیصد پوائنٹ کم ہو سکتی ہے۔ نیپرا نے واضح کیا کہ مارجنل بجلی قیمت پر متوقع اثر نہایت محدود ہے اور نظامی قابلِ اعتماد ی کے فائدے مثبت تو ہیں مگر فی الحال مکمل طور پر مقداری شکل میں ثابت نہیں کیے گئے۔ یہ اعداد ماڈل کے نتائج ہیں، عملی نیلامی اور آپریشن کا حتمی نتیجہ نہیں۔

ریگولیٹر نے بعض اسٹیک ہولڈرز کی 20 فیصد بیٹری شرط کی حمایت کے باوجود ابتدائی مرحلے کے لیے 10 فیصد حد منظور کی۔ تعین میں کہا گیا کہ زیادہ لازمی تناسب ابتدائی سرمایہ لاگت اور نفاذی خطرات بڑھا سکتا ہے اور بالخصوص چھوٹے ممکنہ شرکا کی دلچسپی متاثر ہو سکتی ہے۔ آئی ایس ایم او کو پہلی درخواست برائے تجاویز جاری کرنے سے پہلے معاون مالیاتی ماڈل شائع کرنے اور نیلامی کے بعد شرکت، مسابقت، بیٹری لاگت، تکنیکی کارکردگی، دستیابی اور چارج و ڈسچارج کے حقیقی اعداد کا جائزہ لے کر آئندہ تجویز پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پہلی نیلامی میں تجاویز جمع کرانے کے لیے درخواست برائے تجاویز کی اشاعت سے دو ماہ کی مقررہ اور ناقابلِ توسیع مدت ہوگی؛ بعد کی نیلامیوں میں یہ مدت ایک ماہ رکھی گئی ہے۔ کامیاب بولی دہندہ مطلوبہ بیٹری تنصیب اور فرم صلاحیت برقرار رکھنے کا پابند ہوگا۔ خطِ قبولیت کے بعد شرط پوری نہ ہونے کی صورت میں کارکردگی ضمانت ضبط ہونے سمیت معاہداتی نتائج سامنے آ سکتے ہیں، جبکہ تجارتی آپریشن کے بعد نگرانی گرڈ کوڈ، ڈسٹری بیوشن کوڈ اور مارکیٹ کمرشل کوڈ کے تحت ہوگی۔

نیپرا نے نیلامی سے متعلق اہلیت یا دیگر شکایات سننے کے لیے تین رکنی گریوینس ریڈریسل کمیٹی بھی منظور کی ہے۔ اس کی سربراہی پرائیویٹ پاور اینڈ انفرااسٹرکچر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کریں گے اور آئی ایس ایم او بورڈ کے دو آزاد ڈائریکٹر رکن ہوں گے۔ یہ انتظام شکایت سننے کے عمل کو بولیوں کا فیصلہ کرنے والی نیلامی کمیٹی سے الگ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ منظور شدہ ترامیم کے بعد آئی ایس ایم او کو متعلقہ درخواست، نیلامی دستاویزات اور عملی طریقۂ کار میں ضروری تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔