اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی صارفین کے کنزیومر سروس مینوئل میں ترامیم تجویز کی ہیں، جن میں بلند عمارتوں، صنعتی صارفین اور عارضی کنکشن لینے والوں کے لیے گرڈ شیئرنگ چارجز اور کنکشن سے متعلق شرائط میں تبدیلی شامل ہے۔ تجاویز ابھی حتمی ضابطہ نہیں اور ریگولیٹری عمل کے بعد ان پر فیصلہ کیا جائے گا۔
مجوزہ تبدیلی کے مطابق ایسی کثیر منزلہ عمارت جسے 500 کے وی اے سے زیادہ گنجائش کا مخصوص ٹرانسفارمر درکار ہو، اسے گرڈ شیئرنگ چارجز ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔ موجودہ قواعد میں گراؤنڈ پلس تین منزلہ عمارت کو بعض حالات میں ہائی رائز تصور نہیں کیا جاتا، جس کے باعث اس پر یہ چارجز لاگو نہیں ہوتے۔ نئی تجویز عمارت کی منزلوں کے بجائے بجلی کی مطلوبہ گنجائش اور مخصوص انفراسٹرکچر کو زیادہ اہم معیار بنا سکتی ہے۔
نیپرا نے صنعتی صارفین کے کنکشن، لوڈ میں اضافے اور بجلی کی تقسیم کے نظام میں مطلوبہ سرمایہ کاری سے متعلق بھی تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔ گرڈ شیئرنگ چارجز بنیادی طور پر اس اضافی انفراسٹرکچر کی لاگت سے متعلق ہوتے ہیں جو کسی بڑے صارف یا عمارت کو بجلی فراہم کرنے کے لیے گرڈ، فیڈر، ٹرانسفارمر یا متعلقہ نظام میں درکار ہو سکتا ہے۔
عارضی کنکشنز کے لیے بھی قواعد میں تبدیلی زیر غور ہے تاکہ تعمیراتی منصوبوں، مختصر مدت کی سرگرمیوں یا دوسرے عارضی استعمال کے دوران بجلی کی فراہمی اور اخراجات کا طریقہ زیادہ واضح کیا جا سکے۔ مجوزہ مینوئل میں تقسیم کار کمپنیوں اور صارفین کی ذمہ داریوں، تکنیکی شرائط اور ادائیگی کے اصولوں کو اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اگر یہ تجاویز منظور ہوتی ہیں تو بڑے رہائشی و تجارتی منصوبوں اور بعض صنعتی صارفین کے ابتدائی بجلی کنکشن کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف تقسیم کار اداروں کے لیے نئے بڑے لوڈ کو نظام سے منسلک کرنے کی بنیادی لاگت کا بڑا حصہ متعلقہ صارف سے وصول کرنے کا راستہ واضح ہوگا۔ حتمی اثرات نیپرا کی منظور شدہ ترامیم، چارجز کے حساب کے طریقے اور مختلف صارف زمروں پر لاگو شرائط سامنے آنے کے بعد ہی طے ہوں گے۔
