راولپنڈی: سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع کچھی اور وڈھ میں دو الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران نو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، یہ بات پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے 28 اکتوبر کو بتائی۔ فوجی بیان میں ہلاک افراد کو ریاست کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح کے تحت بھارتی حمایت یافتہ گروہوں سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پہلا آپریشن ضلع کچھی میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور سات دہشت گرد مارے گئے۔ بیان کے مطابق کارروائی کے مقام سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
دوسرا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع وڈھ میں کیا گیا جہاں فورسز نے مشتبہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر انہیں روکا۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے میں مزید دو دہشت گرد ہلاک ہوئے اور وہاں سے بھی ہتھیار اور گولہ بارود ملا۔ فوجی ترجمان کے مطابق دونوں علاقوں میں کلیئرنس یا سینیٹائزیشن کارروائیاں جاری ہیں تاکہ کسی دوسرے مسلح فرد کی موجودگی کا پتہ لگایا جا سکے۔
یہ تفصیلات بنیادی طور پر آئی ایس پی آر کے سرکاری بیان پر مبنی ہیں۔ ہلاک افراد کی شناخت اور ان پر عائد مخصوص الزامات کی مکمل تفصیل فوری طور پر عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی، اس لیے رپورٹ میں فوجی دعووں کو اسی نسبت کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ بھارت ماضی میں پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں مسلح گروہوں کی سرپرستی کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران سکیورٹی فورسز، پولیس اور شہری اہداف کے خلاف حملوں کے بعد انٹیلی جنس کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کی وفاقی اپیکس کمیٹی سے منظور شدہ عزم استحکام کے تحت انسداد دہشت گردی مہم جاری رہے گی۔ تازہ کارروائی میں فورسز کے کسی جانی نقصان کی اطلاع فوجی بیان میں نہیں دی گئی۔
