اسلام آباد: قومی عدالتی آٹومیشن کمیٹی (این جے اے سی) نے ملک بھر میں عدالتی ای فائلنگ کے یکساں نظام کے نفاذ اور ہر مقدمے کو اس کے مکمل عدالتی دورانیے کے لیے ایک منفرد شناخت دینے کے منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا ہے۔ اجلاس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی، جبکہ سپریم کورٹ اور تمام صوبائی ہائی کورٹس کے نمائندہ ججوں اور عدالتی حکام نے شرکت کی۔
سرکاری بیان کے مطابق ای فائلنگ نظام ابتدا میں خاندانی مقدمات کے لیے پائلٹ بنیادوں پر متعارف کرایا جائے گا۔ اس آزمائشی مرحلے کے لیے تمام صوبوں اور اسلام آباد کی منتخب عدالتوں کو شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وکلا، سائلین، عدالتی عملہ اور ججز کاغذی فائلوں پر مکمل انحصار کے بجائے ایک معیاری ڈیجیٹل طریقہ کار کے ذریعے مقدمات داخل اور پراسیس کر سکیں۔
کمیٹی نے مجوزہ ای فائلنگ ٹیمپلیٹ پر بھی تفصیلی غور کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے اس بات پر زور دیا کہ تمام صوبوں اور اسلام آباد کے لیے ایک ہی جامع ٹیمپلیٹ تیار کیا جائے تاکہ مختلف عدالتی دائرہ اختیار میں الگ الگ فارمیٹس پیدا نہ ہوں۔ مجوزہ ٹیمپلیٹ کو ضابطہ دیوانی سمیت متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق بنانے اور اس کے استعمال کو وکلا، عدالتی عملے اور عام شہریوں کے لیے قابلِ عمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اراکین کو دو ہفتوں میں قانونی اور عملی تجاویز دینے کو کہا گیا ہے۔
اجلاس میں ’ون کیس، ون آئیڈینٹیٹی‘ اقدام بھی زیر غور آیا۔ اس تصور کے تحت ہر مقدمے کو ایک ایسی منفرد شناخت دی جائے گی جو مختلف عدالتوں، اپیلوں یا عدالتی مراحل کے دوران برقرار رہے۔ اس نظام کا مقصد ایک ہی کیس کی مختلف سطحوں پر شناخت اور ٹریکنگ کو آسان بنانا، ریکارڈ میں ابہام کم کرنا اور مقدمے کے پورے عدالتی سفر کا مربوط ڈیجیٹل ریکارڈ قائم کرنا ہے۔ ابتدائی مسودہ مزید جائزے کے بعد نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کو حتمی غور کے لیے پیش کیا جانا ہے۔
این جے اے سی نے عدالتی ڈیٹا کی ریئل ٹائم نگرانی کے لیے حال ہی میں شروع کیے گئے ڈیش بورڈ کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ہائی کورٹس اپنے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹس کے ذریعے ڈیٹا اپ ڈیٹ کر رہی ہیں، تاہم جیل محکموں سے معلومات بعض اوقات ایک ماہ تاخیر سے پہنچ رہی ہیں۔ کمیٹی نے اس تاخیر کو ریئل ٹائم نگرانی کے مقصد کے خلاف قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کے ساتھ فوری رابطے کی ہدایت کی۔
یہ تمام اقدامات ابھی نفاذ کے مختلف مراحل میں ہیں اور ای فائلنگ کا ملک گیر حتمی نظام فوری طور پر نافذ نہیں ہوا۔ پائلٹ کے نتائج، قانونی جانچ، سائبر سکیورٹی، عدالتی عملے کی تربیت اور مختلف اداروں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے کے انتظامات اس کے وسیع نفاذ میں اہم ہوں گے۔

