سیول: شمالی کوریا نے ایک درمیانی فاصلے کے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کی تصدیق کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ نیا ہتھیار کم بلندی پر راستہ بدلنے اور مصنوعی ذہانت سے معاون ایسی صلاحیتیں رکھتا ہے جو میزائل دفاعی نظام کے لیے اسے روکنا مشکل بنا سکتی ہیں۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے تجربے کی نگرانی کی۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق میزائل مشرقی ساحلی شہر وونسان کے علاقے سے داغا گیا اور 700 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔ جاپان کی وزارت دفاع نے تقریباً 680 کلومیٹر کی پرواز رپورٹ کی اور کہا کہ میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر سمندر میں گرا۔

کم یو جونگ نے میزائل کو ’’اسٹریٹجک‘‘ قرار دیا، جو شمالی کوریا کی اصطلاح میں عموماً جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میزائل لہردار یا تبدیل شدہ پرواز کا راستہ اختیار کر سکتا ہے اور اس میں غیر واضح نوعیت کی AI صلاحیت شامل ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج نے ان تکنیکی دعوؤں کی فوری آزاد تصدیق نہیں کی، اور پیانگ یانگ کے ہتھیاروں سے متعلق بعض دعوے ماضی میں بھی بیرونی ماہرین کے لیے تصدیق طلب رہے ہیں۔

تجربہ دونوں کوریاؤں کے درمیان سرحدی بارودی سرنگوں کے حالیہ واقعات کے بعد بڑھتی کشیدگی کے دوران ہوا۔ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ 21 ستمبر کو فوجی حد بندی لائن کے قریب دھماکوں میں تین جنوبی کوریائی فوجی زخمی ہوئے اور مشترکہ معائنے میں شمالی کوریا کی نصب کردہ بارودی سرنگوں کی نشاندہی ہوئی۔ شمالی کوریا نے ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔

سیول نے تازہ میزائل تجربے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے پیانگ یانگ سے بیلسٹک لانچ روکنے کا مطالبہ کیا۔ امریکی پیسیفک کمانڈ نے کہا کہ اس لانچ سے امریکی اہلکاروں، علاقے یا اتحادیوں کو فوری خطرہ نہیں تھا۔ شمالی کوریا نے حالیہ ہفتوں میں میزائل تجربات، لائیو فائر مشقوں اور نئے جنگی جہاز کی نمائش سمیت اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھائی ہیں۔