پشاور: نوشہرہ اکنامک زون ایکسٹینشن میں تین نئے صنعتی یونٹس کا افتتاح کیا گیا ہے جن میں مجموعی طور پر تقریباً 40 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری بتائی گئی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر برائے صنعت و تجارت ڈاکٹر محمد ارشاد نے عہدہ سنبھالنے کے بعد زون کے اپنے پہلے سرکاری دورے کے دوران ان یونٹس کا افتتاح کیا۔

حکام کے مطابق تینوں صنعتی یونٹس سے مجموعی طور پر 500 تک براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ ان میں مانی فوڈز، صورت خان پلاسٹک اور ڈائنامک منرلز پراسیسنگ یونٹ شامل ہیں۔ منصوبوں کا تعلق مختلف صنعتی شعبوں سے ہے، جس سے زون میں سرمایہ کاری کی نوعیت کو متنوع بنانے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے۔

مانی فوڈز میں تقریباً 20 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری بتائی گئی ہے اور حکام کے مطابق یہ یونٹ 400 تک روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ صورت خان پلاسٹک ری سائیکل شدہ پلاسٹک کے پیلٹس تیار کرے گا، جبکہ ڈائنامک منرلز پراسیسنگ یونٹ مقامی سطح پر حاصل ہونے والی معدنیات کو صنعتی استعمال کے لیے پراسیس کرے گا اور متحدہ عرب امارات کو برآمد بھی کرے گا۔

صورت خان پلاسٹک اور ڈائنامک منرلز کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری تقریباً 20 کروڑ روپے بتائی گئی ہے اور دونوں یونٹس سے مجموعی طور پر 100 تک روزگار کے مواقع کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ یہ روزگار کے تخمینے منصوبہ انتظامیہ اور حکام کے متوقع اعداد ہیں؛ حقیقی ملازمتوں کی تعداد پیداوار، مارکیٹ کی طلب اور یونٹس کے آپریشنل پیمانے کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

افتتاح کے موقع پر مشیر صنعت و تجارت نے بروقت انتظامی فیصلوں، صنعتی خدمات کی بہتری اور کاروبار دوست ماحول کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتی زونز میں بنیادی سہولیات، تیز منظوریوں اور مؤثر سرکاری رابطے سے نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

نوشہرہ کا صنعتی و اقتصادی زون خیبر پختونخوا میں مینوفیکچرنگ اور پراسیسنگ سرگرمی بڑھانے کے لیے اہم مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ نئے یونٹس میں ری سائیکلنگ اور معدنی پراسیسنگ کی شمولیت مقامی خام مال کو قدر میں اضافے کے بعد صنعتی یا برآمدی استعمال میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ خاص طور پر معدنی مصنوعات کی برآمد صوبے میں ویلیو ایڈیشن کے ہدف سے جڑی ہوئی ہے۔

تین یونٹس کا افتتاح سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمی کے لحاظ سے مثبت پیش رفت ہے، تاہم اس کے معاشی اثرات کا درست اندازہ ان یونٹس کی مسلسل پیداوار، حقیقی روزگار، برآمدی کارکردگی اور مقامی سپلائی چین سے روابط کے بعد لگایا جا سکے گا۔ فی الحال حکام نے 40 کروڑ روپے سرمایہ کاری اور 500 تک ممکنہ ملازمتوں کے اعداد پیش کیے ہیں۔