وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رابعہ نسیم فاروقی نے نیشنل اسکلز یونیورسٹی کے دورے کے دوران نصاب اور تربیتی پروگراموں کو ابھرتی ٹیکنالوجی، صنعت کی ضروریات اور روزگار کی بدلتی منڈی سے زیادہ مضبوطی سے جوڑنے پر زور دیا ہے۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق انہیں یونیورسٹی کے تدریسی پروگراموں، تکنیکی سہولتوں اور صنعت سے روابط کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ یہ ایک پالیسی سمت اور ادارہ جاتی گفتگو ہے، کسی نئے فنڈ یا ڈگری پروگرام کی حتمی منظوری نہیں۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد سعود الطاف نے ادارے کے ہنر پر مبنی تعلیمی ماڈل، عملی تربیت اور نوجوانوں کی قابلِ روزگار صلاحیت بڑھانے کے اقدامات کی تفصیل پیش کی۔ رپورٹ میں آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور مستقبل میں بڑھنے والے تکنیکی شعبوں کے مطابق نصاب کو مسلسل تازہ رکھنے کی ضرورت بیان ہوئی۔ تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی میں صرف نظریاتی تعلیم کافی نہیں؛ لیبارٹری، عملی منصوبے، صنعت کے مسائل اور پیشہ ورانہ معیار بھی اہم ہوتے ہیں۔
صنعت سے ربط کا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ اداروں کو مطلوب مہارتوں کی واضح تصویر ملے اور طلبہ حقیقی کام کے طریقوں سے واقف ہوں۔ تاہم ایسے روابط میں نصاب کی علمی آزادی، شفاف شراکت داری اور طلبہ کے مفاد کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ کسی مخصوص کمپنی یا ٹیکنالوجی کے لیے محدود تربیت کے بجائے بنیادی تصورات، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور نئی مہارت سیکھنے کی استعداد طویل مدت میں زیادہ پائیدار رہتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے کورسز میں ڈیٹا، پروگرامنگ، ماڈل کے استعمال، اخلاقیات، رازداری اور ذمہ دار اطلاق کو یکجا کرنا ہوگا۔ اسی طرح تکنیکی تعلیم کا معیار صرف داخلوں یا اسناد کی تعداد سے نہیں بلکہ مکمل ہونے کی شرح، عملی قابلیت، ملازمت، کاروبار اور صنعت کی رائے سے جانچا جاسکتا ہے۔ خواتین اور کم وسائل والے علاقوں کے طلبہ کے لیے رسائی بھی قومی ہنر حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
دورے کے بعد اگلی قابلِ پیمائش پیش رفت نصاب میں منظور شدہ تبدیلی، نئی لیبارٹری، صنعت شراکت یا تربیتی نتائج سے سامنے آئے گی۔ فی الحال رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یونیورسٹی کو ابھرتی ٹیکنالوجی اور صنعت کے تقاضوں کے ساتھ تعلیم کا ربط مزید مضبوط بنانے کی ہدایت اور حوصلہ افزائی دی گئی ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




