کراچی/اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے 242.37 ارب روپے کا مجموعی خالص منافع رپورٹ کیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے 169.90 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 43 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کے جاری کردہ سالانہ مالی نتائج کے مطابق بنیادی اور تخفیف شدہ فی حصص آمدن 39.50 روپے سے بڑھ کر 56.35 روپے ہوگئی۔

بورڈ آف ڈائریکٹرز نے نتائج کے ساتھ 6 روپے فی حصص حتمی نقد منافع کی سفارش بھی کی ہے۔ یہ ادائیگی بورڈ کی سفارش ہے اور معمول کے کارپوریٹ طریقہ کار کے تحت حصص یافتگان کی منظوری اور متعلقہ شرائط سے مشروط ہوگی، اس لیے اسے پہلے ہی ادا شدہ منافع نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

اعداد و شمار کے مطابق صارفین کے ساتھ معاہدوں سے حاصل ہونے والی خالص آمدن 12 فیصد بڑھ کر 449.19 ارب روپے ہوگئی، جو مالی سال 2025 میں 401.18 ارب روپے تھی۔ رائلٹی کی ادائیگی تقریباً 52.62 ارب روپے اور آپریٹنگ اخراجات 147.69 ارب روپے رہے۔ اخراجات بڑھنے کے باوجود مجموعی منافع 6.5 فیصد اضافے سے 246.76 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

خالص منافع میں بڑا سالانہ اضافہ صرف عملی آمدن کی بہتری سے نہیں آیا۔ کمپنی کا انکم ٹیکس چارج 109.41 ارب روپے سے تقریباً 85 فیصد کم ہو کر 16.76 ارب روپے رہ گیا۔ اس کے برعکس قبل از انکم ٹیکس منافع 279.31 ارب روپے سے 7.2 فیصد کم ہو کر 259.13 ارب روپے ہوا۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعد از ٹیکس نتیجے میں بہتری کا اہم حصہ کم ٹیکس چارج سے پیدا ہوا، جبکہ قبل از ٹیکس سطح پر آمدن دباؤ میں رہی۔

مالی سال کے دوران فنانس اور دیگر آمدن 33.5 فیصد کم ہو کر 54.39 ارب روپے رہی۔ تلاش و کھدائی کے اخراجات 54 فیصد اضافے سے 28.78 ارب روپے اور عمومی و انتظامی اخراجات 47 فیصد بڑھ کر 11.07 ارب روپے ہوگئے۔ دوسری جانب ایسوسی ایٹ کمپنیوں سے منافع میں حصہ تقریباً 31 فیصد بڑھ کر 16.59 ارب روپے تک پہنچا اور فنانس لاگت میں کمی ریکارڈ ہوئی۔

او جی ڈی سی ایل پاکستان کی بڑی تیل و گیس تلاش اور پیداوار کمپنیوں میں شامل ہے، اس لیے اس کے نتائج سرکاری آمدن، توانائی کی مقامی پیداوار اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم سالانہ خالص منافع کو براہِ راست پیداوار میں اسی شرح کے اضافے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا؛ قیمتوں، شرحِ مبادلہ، ٹیکس، رائلٹی، پیداوار میں کٹوتی اور غیر عملی آمدن بھی حتمی نتیجے کو متاثر کرتے ہیں۔

کمپنی کی مکمل سالانہ رپورٹ میں نقد بہاؤ، واجبات، پیداواری حجم، ذخائر اور دریافتوں کی تفصیل سے طویل مدتی کارکردگی کا بہتر اندازہ ہوگا۔ تازہ اعلان فی الحال بورڈ کے منظور کردہ مالی نتائج پر مبنی ہے، جبکہ حتمی ڈیویڈنڈ اور سالانہ کھاتوں سے متعلق آئندہ کارپوریٹ کارروائی متعلقہ نوٹس اور اجلاس کے بعد مکمل ہوگی۔