اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پن اسٹیک) نے اہم معدنیات سے متعلق تجزیاتی تعاون بڑھانے کے لیے ایک معاہدہ کیا ہے، جس میں او جی ڈی سی ایل کی لیتھیم استخراج سے متعلق مجوزہ سرگرمیوں کے لیے سائنسی و لیبارٹری معاونت بھی شامل ہے۔

او جی ڈی سی ایل کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری تازہ اپ ڈیٹ اور کاروباری میڈیا رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت پن اسٹیک کمپنی کو عنصری پروفائلنگ اور تابکار عناصر کے تجزیے سمیت مختلف تجزیاتی خدمات فراہم کرے گا۔ یہ تعاون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرکاری توانائی کمپنی اپنی روایتی تیل و گیس سرگرمیوں سے آگے معدنیات اور دیگر شعبوں میں تنوع کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق او جی ڈی سی ایل نے معاہدے کے موقع پر اپنا مجوزہ دائرۂ کار اور تنوع سے متعلق منصوبے پیش کیے، جن میں پن اسٹیک کے تعاون سے لیتھیم استخراج کی سمت میں ابتدائی کام بھی شامل ہے۔ تاہم دستیاب معلومات میں کسی تجارتی پیداوار، ذخیرے کی حتمی مقدار یا منصوبے کی تکمیل کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے اس مرحلے کو تحقیقی اور تجزیاتی تعاون کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔

پن اسٹیک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت کام کرنے والا تحقیق و ترقی کا ادارہ ہے اور مواد، عناصر اور تابکاری سے متعلق تجزیاتی صلاحیت رکھتا ہے۔ معاہدے پر پن اسٹیک کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر قمر الحق اور او جی ڈی سی ایل کے جنرل منیجر سپلائی چین مینجمنٹ اعجاز عباس رضوی نے دستخط کیے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے رکن سائنس ڈاکٹر شکیل عباس روفی اور او جی ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو احمد حیات لک بھی تقریب میں موجود تھے۔

دونوں اداروں کا کہنا ہے کہ اس تعاون کا مقصد پن اسٹیک کی سائنسی مہارت کو او جی ڈی سی ایل کی توانائی اور وسائل سے متعلق عملی صلاحیت کے ساتھ جوڑنا ہے۔ اگر تحقیق اور تجزیاتی مراحل کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں تو یہ تعاون پاکستان میں اہم معدنیات کی تلاش، جانچ اور ممکنہ ویلیو چین کی تیاری میں مدد دے سکتا ہے، تاہم کسی بھی معاشی یا تجارتی نتیجے کا انحصار مزید مطالعات، تکنیکی نتائج، سرمایہ کاری اور متعلقہ منظوریوں پر ہوگا۔