اسلام آباد: سرکاری ملکیت کی آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، او جی ڈی سی ایل، نے مالی سال 2025-26 کے لیے 242 ارب 40 کروڑ روپے کا ریکارڈ بعد از ٹیکس منافع ظاہر کیا ہے۔ کمپنی کے بورڈ سے منظور شدہ مالی نتائج کے مطابق یہ رقم گزشتہ مالی سال کے 169 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 43 فیصد زیادہ ہے۔
سالانہ نتائج میں خالص فروخت کی آمدن 449 ارب 19 کروڑ 10 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی۔ فی حصص آمدن 39 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 56 روپے 35 پیسے ہو گئی۔ بورڈ نے چھ روپے فی حصص حتمی نقد ڈیویڈنڈ کی بھی منظوری دی ہے، جو پہلے ادا کیے گئے مجموعی 11 روپے فی حصص عبوری ڈیویڈنڈ کے علاوہ ہے۔ اس طرح مالی سال کے لیے کل نقد ادائیگی 17 روپے فی حصص بنتی ہے، جسے کمپنی کا اب تک کا سب سے زیادہ سالانہ ڈیویڈنڈ بتایا گیا ہے۔
پورے سال کے بڑے اضافے کے باوجود نتائج کی سہ ماہی تقسیم مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ جولائی 2025 سے مارچ 2026 کے پہلے نو ماہ میں او جی ڈی سی ایل کا بعد از ٹیکس منافع تقریباً 115 ارب روپے رہا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 130 ارب روپے سے 12 فیصد کم تھا۔ اس کے بعد عالمی تیل و گیس قیمتوں میں تیز اضافے نے آخری سہ ماہی کی آمدن کو نمایاں طور پر بڑھایا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال کی آخری سہ ماہی میں بعد از ٹیکس منافع تقریباً 128 ارب روپے رہا، جو پہلے تین سہ ماہیوں کے مجموعی منافع سے بھی زیادہ اور کمپنی کی کسی ایک سہ ماہی کا بلند ترین منافع تھا۔ اس غیر معمولی سہ ماہی کارکردگی نے پورے سال کے نتیجے کو ریکارڈ سطح تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ قیمتوں میں اضافے سے حاصل ہونے والا فائدہ مستقل پیداواری نمو سے الگ عامل ہے، اس لیے آئندہ ادوار میں نتائج عالمی توانائی نرخوں اور پیداوار دونوں سے متاثر ہوں گے۔
او جی ڈی سی ایل نے بتایا کہ اس نے مالی سال کے دوران کارپوریٹ ٹیکس، ڈیویڈنڈ، رائلٹی اور دیگر سرکاری محصولات کی صورت میں قومی خزانے کو مجموعی طور پر 187 ارب روپے دیے۔ کمپنی کے اندازے کے مطابق مقامی تیل و گیس پیداوار کے ذریعے درآمدی متبادل سے ملک کو 3 ارب 31 کروڑ ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت بھی ہوئی۔ یہ زرمبادلہ بچت کمپنی کا تخمینہ ہے، نہ کہ نقد منافع کا حصہ۔
کمپنی پاکستان میں تیل اور گیس کی تلاش و پیداوار کے بڑے سرکاری اداروں میں شامل ہے اور اس کے مالی نتائج قومی بجٹ، سرکاری حصص کی آمدن اور توانائی درآمدات پر براہ راست اہمیت رکھتے ہیں۔ زیادہ ڈیویڈنڈ سے حکومت سمیت تمام حصص یافتگان کو اضافی نقد ادائیگی ملے گی، تاہم حتمی ڈیویڈنڈ معمول کے کارپوریٹ طریقۂ کار اور حصص یافتگان کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
مالی سال کے نتائج ایک جانب او جی ڈی سی ایل کی ریکارڈ سالانہ آمدن ظاہر کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب پہلے نو ماہ کی کمی یہ واضح کرتی ہے کہ بڑا اضافہ بنیادی طور پر آخری سہ ماہی کے عالمی قیمتوں کے ماحول سے آیا۔ کمپنی کی آئندہ کارکردگی کے جائزے میں پیداوار کی مقدار، نئی دریافتوں کی تجارتی صلاحیت، وصولیوں اور عالمی خام تیل و گیس نرخوں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہوگا۔




