اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر 2026 کے لیے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی زیادہ سے زیادہ صارف قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کر دی ہے۔ نئی قیمت یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہے اور اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق مقامی طور پر تیار ہونے والی اور درآمدی ایل پی جی دونوں پر اطلاق کرتی ہے۔

مقررہ نرخ کے تحت 11.8 کلو گرام وزن والے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی زیادہ سے زیادہ صارف قیمت 3,296 روپے 23 پیسے بنتی ہے۔ فی میٹرک ٹن بنیاد پر زیادہ سے زیادہ قیمت 279,341 روپے 49 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ ریگولیٹر کی جانب سے ماہانہ ایل پی جی نرخوں کا تعین خام مال، درآمدی قیمت، شرح مبادلہ، ٹیکسوں اور سپلائی چین کے متعلقہ اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

اوگرا کی سرکاری ویب سائٹ پر اکتوبر 2026 کے لیے مقامی ایل پی جی قیمتوں کا نوٹیفکیشن بھی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس سے صارفین، ڈسٹری بیوٹرز اور مارکیٹنگ کمپنیوں کو ماہ کے لیے ریگولیٹری حوالہ قیمت دستیاب ہو گئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ صارف قیمت کا مقصد مارکیٹ میں ایک واضح حد مقرر کرنا ہے، تاہم مختلف علاقوں میں ترسیل، رسد اور دستیابی کی صورت حال عملی فروخت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں ایل پی جی گھریلو صارفین کے علاوہ ہوٹلوں، چھوٹے کاروباروں، دیہی علاقوں اور ان مقامات پر بھی استعمال ہوتی ہے جہاں پائپ لائن گیس کی دستیابی محدود ہے۔ اسی وجہ سے ماہانہ قیمت میں تبدیلی گھریلو بجٹ اور چھوٹے کاروباری اخراجات پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ موسم سرد ہونے کے قریب آنے کے ساتھ ایل پی جی کی طلب میں موسمی اضافہ بھی عام طور پر دیکھا جاتا ہے، جس سے ریٹیل مارکیٹ میں قیمتوں کی نگرانی مزید اہم ہو جاتی ہے۔

ریگولیٹری نرخ کا اطلاق سپلائی چین کے تمام درجوں پر زیادہ سے زیادہ صارف قیمت کے طور پر کیا گیا ہے۔ صارفین کے لیے اصل اہمیت یہ ہے کہ سرکاری حد سے زائد قیمت وصول کیے جانے کی صورت میں متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ مارکیٹنگ اور تقسیم کار اداروں پر لازم ہے کہ وہ نوٹیفکیشن کے مطابق قیمت سازی اور دستیابی کے قواعد کی پابندی کریں۔

توانائی کی عالمی قیمتوں اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ پاکستان کی ایل پی جی لاگت پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل ہیں۔ اکتوبر کے لیے اعلان کردہ قیمت آئندہ ماہ کے نوٹیفکیشن تک بنیادی ریگولیٹری حوالہ رہے گی، جبکہ کسی غیر معمولی پالیسی یا مارکیٹ تبدیلی کی صورت میں اوگرا الگ ہدایات جاری کر سکتا ہے۔