اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں وزارت مواصلات کے خصوصی سیکریٹری علی شیر محسود نے تسلیم کیا ہے کہ قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے) کے منصوبوں میں ناقص منصوبہ بندی ایک بنیادی کمزوری ہے۔ اجلاس میں کمیٹی ارکان نے ملک کی اہم شاہراہوں کی خراب حالت اور متعدد سڑک منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر پر سوالات اٹھائے۔

کمیٹی کے سامنے وزارت مواصلات نے بتایا کہ این ایچ اے کے پلاننگ اور ڈیزائن ونگز کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ منصوبوں کی تیاری، لاگت کے تخمینے اور تعمیراتی مراحل میں بار بار تبدیلیوں اور تاخیر کو کم کیا جا سکے۔ خصوصی سیکریٹری کا کہنا تھا کہ منصوبہ بندی کے مرحلے میں کمزوریاں بعد میں تعمیراتی رفتار، لاگت اور معیار پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ارکان نے مختلف قومی شاہراہوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے وزارت سے جواب طلب کیا۔ ارکان کی تشویش صرف نئے منصوبوں تک محدود نہیں تھی بلکہ موجودہ سڑکوں کی حالت اور عوام کو درپیش سفری مشکلات بھی زیر بحث آئیں۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے حقیقت پسندانہ ٹائم لائن، مکمل ڈیزائن اور قابل عمل مالی منصوبہ بندی پہلے مرحلے میں واضح ہونی چاہیے۔

وزارت مواصلات کے حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے اور منصوبوں کے ڈیزائن و نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے پر کام جاری ہے۔ تاہم اجلاس میں سامنے آنے والا اعتراف این ایچ اے کے منصوبوں میں تاخیر اور لاگت بڑھنے سے متعلق دیرینہ سوالات کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے۔

قومی شاہراہیں بین الصوبائی تجارت، مسافر نقل و حرکت اور بندرگاہوں و صنعتی مراکز تک رسائی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لیے ان منصوبوں میں تاخیر کے اثرات صرف تعمیراتی شعبے تک محدود نہیں رہتے بلکہ نقل و حمل کی لاگت اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ کمیٹی کی کارروائی پارلیمانی نگرانی کا حصہ ہے؛ اجلاس میں اٹھائے گئے اعتراضات تحقیقات یا حتمی مالی بے ضابطگی کے فیصلے کے مترادف نہیں، بلکہ متعلقہ وزارت اور این ایچ اے سے جواب دہی اور اصلاحات کا مطالبہ ہیں۔