اسلام آباد: پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) فاؤنڈیشن نے اپنے پانچویں ہائیڈرو پاور پلانٹ کے قیام کے لیے معاہدہ کر لیا ہے۔ فاؤنڈیشن ہائیڈل پاور پلانٹ یونٹ-05، یا ایف ایچ پی پی-05، پانچ میگاواٹ صلاحیت کا منصوبہ ہوگا جو چشما-5 نیوکلیئر پاور پلانٹ کے آؤٹ فال پر تعمیر کیا جائے گا۔

پی اے ای سی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ڈان نے رپورٹ کیا کہ منصوبہ فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 30.66 ملین کلوواٹ آور صاف بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ بجلی کی باقاعدہ پیداوار ستمبر 2029 تک شروع ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ منصوبے کا مقصد سائٹ پر دستیاب آبی توانائی کو استعمال کرتے ہوئے پانی کے وسائل سے اضافی قابلِ تجدید بجلی پیدا کرنا ہے۔

معاہدہ پی اے ای سی ہیڈکوارٹرز میں پی اے ای سی فاؤنڈیشن اور تین کمپنیوں پر مشتمل مشترکہ منصوبے کے درمیان طے پایا۔ اس جوائنٹ وینچر میں چائنا اوشن انجینئرنگ کنسٹرکشن کارپوریشن لمیٹڈ، ننگبو واٹر کنزروینسی اینڈ ہائیڈرو پاور پلاننگ اینڈ ڈیزائن انسٹی ٹیوٹ کمپنی لمیٹڈ اور حبیب رفیق انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔

پی اے ای سی فاؤنڈیشن کمیشن کا غیر منافع بخش ادارہ ہے، جو 1994 میں پی اے ای سی ملازمین اور ان کے خاندانوں کی فلاح کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ نیا منصوبہ فاؤنڈیشن کے قابلِ تجدید توانائی پورٹ فولیو میں اضافہ کرے گا اور مکمل ہونے پر قومی گرڈ میں پانچ میگاواٹ اضافی صاف بجلی شامل کرے گا۔

پی اے ای سی کے مطابق اس کے چھ موجودہ جوہری بجلی گھر مجموعی طور پر 3,530 میگاواٹ بجلی قومی نظام کو فراہم کر رہے ہیں۔ چشما-5 خود 1,200 میگاواٹ کا جوہری بجلی منصوبہ ہے، جبکہ موجودہ خبر اس کے آؤٹ فال سے آبی توانائی استعمال کرنے والے الگ پانچ میگاواٹ ہائیڈرو منصوبے سے متعلق ہے۔

اس مرحلے پر معاہدہ طے پا چکا ہے، مگر منصوبے کی اصل تعمیر، لاگت کی حتمی کارکردگی اور سالانہ پیداوار کے نتائج کام مکمل ہونے کے بعد ہی جانچے جا سکیں گے۔ 30.66 ملین کلوواٹ آور سالانہ پیداوار اور ستمبر 2029 کی تاریخ پی اے ای سی کی موجودہ منصوبہ بندی اور تخمینوں پر مبنی ہیں۔