برمنگھم: انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے پہلے دن پاکستان کی بیٹنگ ایک بار پھر شدید دباؤ میں آ گئی اور پوری ٹیم ایجبسٹن میں صرف 133 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ انگلینڈ نے جواب میں دن کے اختتام تک چار وکٹوں کے نقصان پر 156 رنز بنا لیے اور پہلی اننگز میں 23 رنز کی برتری حاصل کر لی۔ میزبان ٹیم پہلے ہی تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی ناقابل شکست برتری رکھتی ہے۔

انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے ٹاس جیت کر ابر آلود حالات میں پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے 10 اوورز کے اندر 26 رنز پر چار وکٹیں گنوا دیں۔ صائم ایوب صفر، اذان اویس 9، عبداللہ شفیق اور شان مسعود بھی جلد آؤٹ ہوئے، جبکہ کپتان بابر اعظم صرف 7 رنز بنا سکے۔ پاکستان کی جانب سے سعود شکیل نے 43 رنز کے ساتھ سب سے زیادہ مزاحمت کی اور آخری حصے میں محمد عباس نے 21 رنز بنائے۔

انگلینڈ کے جاش ٹنگ نے 42 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں، جبکہ اولی رابنسن نے 15 اور جوفرا آرچر نے 25 رنز کے عوض تین، تین کھلاڑی آؤٹ کیے۔ رابنسن نے صائم ایوب کی وکٹ کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 100 وکٹیں بھی مکمل کیں۔ پاکستان کی اننگز 33.5 اوورز میں ختم ہوئی اور ٹیم مسلسل پانچویں ٹیسٹ اننگز میں 200 رنز تک نہ پہنچ سکی۔

پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز کی شکست کے بعد اسکواڈ اور کوچنگ سیٹ اپ میں بڑی تبدیلیاں کی تھیں۔ تیسرے ٹیسٹ میں رضااللہ، غازی غوری اور محمد عمران رندھاوا کو ڈیبیو کرایا گیا۔ بیٹنگ میں تبدیلیوں کا فوری فائدہ نہ ہوا، تاہم بولنگ میں نوجوان رضااللہ نے جو روٹ اور ایمیلیو گے کی وکٹیں حاصل کر کے نمایاں آغاز کیا۔

انگلینڈ کی جوابی اننگز میں پاکستان نے ابتدائی کامیابیاں حاصل کیں، لیکن ایمیلیو گے اور ہیری بروک نے سنچری شراکت قائم کر کے میزبان ٹیم کو سنبھالا۔ گے 60 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ بروک 52 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ پہلے دن کے اختتام پر انگلینڈ کی پوزیشن مضبوط ہے، تاہم پاکستان کے پاس دوسرے دن نئی گیند اور باقی بیٹنگ کو جلد سمیٹنے کا موقع موجود ہو گا۔ میچ کا نتیجہ ابھی طے نہیں، لیکن پہلی اننگز میں کم اسکور نے پاکستان کو فوری دباؤ میں ڈال دیا ہے۔