اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان میں پانی کے بڑھتے ہوئے دباؤ، موسمیاتی تبدیلی اور زرعی ضروریات کے تناظر میں اگلی دہائی کے دوران اسٹریٹجک آبی بنیادی ڈھانچے پر تقریباً 18 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ منصوبے کا مقصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانا اور سیلاب و خشک سالی جیسے شدید موسمی خطرات کے مقابلے میں ملکی آبی نظام کی لچک بڑھانا ہے۔

سرکاری منصوبہ بندی کے تحت سرمایہ کاری بڑے اور درمیانے درجے کے آبی منصوبوں، نہری نظام، ذخائر اور پانی کے بہتر انتظام سے متعلق اقدامات میں تقسیم ہوسکتی ہے۔ پاکستان کی معیشت میں زراعت کا بڑا حصہ ہے اور فصلوں کی پیداوار دریائے سندھ کے نظام اور وسیع آبپاشی نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہے۔ آبادی میں اضافے، شہری ضروریات، زیر زمین پانی کے استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی کی دستیابی اور اس کے موسمی بہاؤ میں بڑھتا ہوا عدم توازن پالیسی سازوں کے لیے اہم چیلنج بن چکا ہے۔

حالیہ برسوں کے بڑے سیلابوں اور خشک ادوار نے یہ ضرورت مزید نمایاں کی ہے کہ پانی کو صرف زرعی ان پٹ کے بجائے قومی سلامتی، خوراک، توانائی اور موسمیاتی موافقت کے مشترکہ مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔ مجوزہ سرمایہ کاری سے پانی ذخیرہ کرنے اور ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ سیلابی پانی کے انتظام اور خشک موسم میں دستیابی بڑھانے کے امکانات وابستہ ہیں۔ تاہم بڑے آبی منصوبوں میں مالی وسائل، صوبائی اتفاق رائے، زمین کے حصول، ماحولیاتی اثرات اور بروقت تعمیر جیسے پیچیدہ عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔

18 ارب ڈالر کا ہدف اگلے دس برس کے لیے منصوبہ بند سرمایہ کاری ہے، اسے فوری طور پر مکمل مختص یا خرچ شدہ رقم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ہر منصوبے کی حتمی لاگت، مالیاتی ذریعہ اور تکمیل کی مدت منظوریوں اور عمل درآمد کے مراحل کے ساتھ واضح ہوگی۔ پاکستان کے لیے آبی تحفظ کی پالیسی میں نئے انفراسٹرکچر کے ساتھ موجودہ نہری نظام کی کارکردگی، پانی کے ضیاع میں کمی، فصلوں کے انتخاب اور زیر زمین پانی کے پائیدار استعمال جیسے اقدامات بھی اہم رہیں گے۔