اسلام آباد: پاکستان میں بجلی چوری کی روک تھام، بلنگ کی درستگی اور ریکوری بہتر بنانے کے لیے ملک بھر میں 21 لاکھ سے زیادہ اسمارٹ بجلی میٹر نصب کیے جا چکے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے ایک سرکاری دستاویز کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 5 اگست 2026 تک مجموعی طور پر 2,125,296 اسمارٹ میٹر نصب کیے گئے تھے۔

دستاویز کے مطابق سب سے زیادہ اسمارٹ میٹر اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، یعنی آئیسکو، کے علاقے میں لگائے گئے جہاں تعداد تقریباً 11 لاکھ 50 ہزار بتائی گئی ہے۔ اس کے بعد گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی، گیپکو، میں 348,135 میٹر، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی، میپکو، میں 229,719 میٹر اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی، لیسکو، میں 119,372 اسمارٹ میٹر نصب کیے جا چکے تھے۔

اسمارٹ یا ایڈوانس میٹرنگ سسٹم روایتی میٹروں کے مقابلے میں بجلی کے استعمال کا زیادہ تفصیلی ڈیٹا فراہم کرتے ہیں اور کئی صورتوں میں دور سے ریڈنگ لینے، غیر معمولی کھپت کی نشاندہی اور بلنگ کے نظام کو خودکار بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ حکومت اس ٹیکنالوجی کو بجلی چوری، لائن لاسز اور غلط یا متنازع بلنگ کے مسائل سے نمٹنے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

یہ اعداد ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب وفاقی حکومت نے تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی اور تجارتی نقصانات کی وجوہ جاننے کے لیے جامع تکنیکی آڈٹ کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ الگ حکومتی اجلاسوں میں اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب جاری رکھنے اور اسے تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے، حتیٰ کہ ان تقسیم کار کمپنیوں میں بھی جن کی نجکاری زیر غور ہے۔

دستیاب سرکاری دستاویز نصب شدہ میٹروں کی تعداد بتاتی ہے، تاہم اس میں یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا کہ صرف اسمارٹ میٹرز سے بجلی چوری یا لائن لاسز کتنی مقدار میں کم ہوئے۔ ان اثرات کا درست اندازہ متعلقہ ڈسکوز کے ریکوری، نقصانات اور بلنگ کے بعد کے اعداد و شمار سے ہوگا۔ پھر بھی 21 لاکھ سے زیادہ میٹروں کی تنصیب پاکستان کے بجلی کے تقسیم نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے عمل میں نمایاں پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔