پشاور: پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت میں تعطل نے دوطرفہ تجارت اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو متاثر کیا ہے۔ سرحد کے دونوں جانب تجارتی گاڑیوں کی نقل و حرکت محدود ہونے سے مال بردار ٹرکوں کے انتظار، ذخیرہ کاری اور تاخیر کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ پھل، سبزیاں اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیا کے تاجروں کو زیادہ نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔
طورخم اور چمن پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے اہم زمینی راستوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان راستوں پر کسی بھی طویل بندش یا سخت پابندی کا اثر صرف سرحدی تاجروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ افغانستان جانے والے ٹرانزٹ سامان، پاکستانی برآمدات اور وسطی ایشیا تک زمینی تجارتی روابط پر بھی پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے لیے گاڑیوں کے رکنے سے ایندھن، ڈرائیوروں کے اخراجات اور کنٹینر و ڈیمرج چارجز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
تاجر تنظیمیں عموماً ایسے تعطل کے دوران حکام سے تجارتی گاڑیوں کے لیے واضح طریقہ کار اور جلد بحالی کا مطالبہ کرتی ہیں، تاہم سرحدی نقل و حرکت سکیورٹی حالات اور دونوں ممالک کے انتظامی فیصلوں سے مشروط رہتی ہے۔ موجودہ صورت حال میں تجارت کی مکمل بحالی کا وقت متعلقہ حکام کے فیصلوں پر منحصر ہے، اس لیے کسی مخصوص تاریخ کو یقینی نہیں سمجھا جاسکتا۔
پاکستان اور افغانستان کی باہمی تجارت میں خوراک، زرعی پیداوار، تعمیراتی سامان اور مختلف صارف اشیا اہم حصہ رکھتی ہیں۔ سرحدی بندش اگر مختصر ہو تو بعض نقصانات محدود رہ سکتے ہیں، لیکن طویل تعطل سپلائی چین، قیمتوں اور برآمد کنندگان کی ترسیل کے وعدوں پر زیادہ نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ کاروباری حلقوں کے لیے فوری ترجیح پھنسے ہوئے سامان کی محفوظ نقل و حرکت اور کلیئرنس کے قابل پیش گوئی انتظامات کی بحالی ہے۔

