اسلام آباد/کابل: پاکستان نے 24 ستمبر کو اعلان کیا کہ اس نے افغانستان کے اندر 10 ایسے مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے جو، پاکستانی حکام کے مطابق، پاکستان کے خلاف ڈرونز ذخیرہ کرنے اور انہیں لانچ کرنے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے اپنے دفاع کے حق کے تحت کی گئی اور اہداف کو ان مقامات تک محدود رکھا گیا جنہیں حالیہ ڈرون حملوں سے جوڑا گیا تھا۔
پاکستانی موقف کے مطابق ایک روز قبل افغان سرزمین سے آنے والے ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام نے شناخت کیا اور انہیں اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ناکارہ بنا دیا گیا۔ اس کے بعد پاکستان نے ان مقامات کے خلاف کارروائی کی جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ڈرونز کے ذخیرے اور لانچنگ کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ وزیر اطلاعات نے خبردار کیا کہ مزید اشتعال انگیز کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے اس الزام کی تردید کی کہ اس نے پاکستان کی طرف ڈرونز بھیجے تھے۔ طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستانی حملے قندھار، پکتیا اور خوست صوبوں میں ہوئے۔ افغان حکام نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں چار شہری ہلاک ہوئے۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہو سکی، اس لیے اسے افغان حکام کے بیان کے طور پر ہی رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ سلامتی کی صورت حال میں نئی شدت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسلام آباد طویل عرصے سے الزام لگاتا آیا ہے کہ پاکستان مخالف شدت پسند گروہ افغان سرزمین سے کارروائیاں کرتے ہیں، جبکہ طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ پاکستان کے اندر عسکریت پسندی بنیادی طور پر پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے۔ حالیہ ہفتوں میں سرحدی علاقوں میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد تعلقات میں مزید تناؤ آیا ہے۔
پاکستانی حکام نے اپنی کارروائی کو محدود اور فوجی نوعیت کے اہداف کے خلاف قرار دیا ہے، جبکہ افغان حکام نے اسے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ردعمل کا حق محفوظ رکھنے کی بات کی ہے۔ دونوں فریقوں کے متضاد دعووں کے باعث شہری نقصان اور اہداف کی نوعیت سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق اہم رہے گی۔

