نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے فوجی اور تزویراتی استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی کو عالمی اسلحہ دوڑ کی ایک نئی جہت بننے سے روکنے کے لیے مشترکہ بین الاقوامی اصول، انسانی نگرانی اور اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 24 ستمبر کو سلامتی کونسل کی بریفنگ "Artificial Intelligence and International Security" میں پاکستان کا موقف پیش کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اے آئی سے امن، ترقی، صحت، تعلیم اور معیشت میں بڑے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن یہی ٹیکنالوجی اگر غیر ذمہ دارانہ فوجی استعمال، خودکار فیصلہ سازی یا ہتھیاروں کے نظام میں مناسب انسانی کنٹرول کے بغیر شامل کی جائے تو خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر غلط اندازے، بہت کم وقت میں فیصلوں کا دباؤ اور بحران کے دوران حادثاتی تصادم کے امکان کی طرف توجہ دلائی۔

پاکستانی بیان میں زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی نظم صرف چند ٹیکنالوجی رکھنے والے ممالک یا کمپنیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کے لیے مساوی رسائی، صلاحیت سازی اور ایسی حکمرانی کی حمایت کی جس میں ٹیکنالوجی کے فوائد وسیع پیمانے پر تقسیم ہوں۔ اسحاق ڈار نے اے آئی سے متعلق بین الاقوامی تعاون کو امن اور پائیدار ترقی کے مقاصد سے جوڑنے کی بات بھی کی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے اثرات، سائبر سلامتی، غلط استعمال اور انسانی تحفظ کے پہلوؤں پر بات کی۔ پاکستان نے اس تناظر میں ایسے اعتماد سازی اقدامات کی ضرورت بیان کی جو فوجی شعبے میں اے آئی کے استعمال کے باعث پیدا ہونے والے غلط فہمی اور غیر متوقع ردعمل کے خطرات کم کر سکیں۔

یہ بحث ایسے وقت ہو رہی ہے جب دنیا بھر میں خودکار ہتھیاروں، نگرانی کے نظام، فیصلہ سازی کے الگورتھمز اور جدید سائبر ٹیکنالوجی میں اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مختلف ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ٹیکنالوجی کے بڑے مواقع موجود ہیں، تاہم عالمی سطح پر اس کے فوجی استعمال، شفافیت، ذمہ داری اور انسانی کنٹرول سے متعلق ایک جامع اور یکساں قانونی فریم ورک ابھی زیر بحث ہے۔

پاکستان نے اپنے بیان میں کسی مخصوص ملک یا کمپنی کو ہدف نہیں بنایا بلکہ کثیرالجہتی ضابطہ سازی، محتاط فوجی استعمال اور ترقی پذیر ملکوں کی شمولیت پر زور دیا۔ سلامتی کونسل کی یہ بریفنگ عالمی سطح پر اے آئی اور بین الاقوامی سلامتی کے باہمی تعلق پر بڑھتی ہوئی بحث کا حصہ ہے۔