اسلام آباد/نیویارک: پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور وزیر مملکت بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ٹوکنائزیشن ترقی پذیر دنیا میں مالی شمولیت کے اہم ذرائع بن سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ٹیکنالوجی کو ایسے افراد کی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کرنا ہوگا جو اب تک باضابطہ مالی نظام سے باہر ہیں۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر مائیکرو کریڈٹ کے 50 سال مکمل ہونے کے حوالے سے منعقدہ فورم میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔
سوشل بزنس، یوتھ اینڈ ٹیکنالوجی فورم میں بلال بن ثاقب نے مالی شمولیت، مصنوعی ذہانت اور ٹوکنائزیشن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھرتی معیشتوں کے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ عالمی مالیاتی نظام کے نئے قواعد کس طرح تشکیل دیے جائیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں اندازاً 1.3 ارب بالغ افراد کسی مالیاتی ادارے میں اکاؤنٹ نہیں رکھتے، جبکہ ان میں سے تقریباً 90 کروڑ کے پاس موبائل فون موجود ہے۔
انہوں نے اس فرق کو صرف ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کا مسئلہ قرار دینے کے بجائے مالیاتی ڈھانچے، قواعد اور پالیسی کے انتخاب سے جوڑا۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ ڈیجیٹل رسائی کو باضابطہ مالی خدمات تک رسائی میں تبدیل کرنے کے لیے ایسے ضابطے اور نظام درکار ہیں جو کم آمدنی اور روایتی بینکاری سے باہر آبادی کو عملی طور پر شامل کریں۔
خطاب میں پاکستان کے ورچوئل اثاثوں سے متعلق پالیسی سفر کا بھی ذکر کیا گیا۔ بلال بن ثاقب کے مطابق 2018 میں پاکستان کے بینکاری نظام نے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے راستہ بند کیا تھا، تاہم ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے بعد ایک باقاعدہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت یہ دروازہ دوبارہ کھولا گیا۔ اس کے بعد ریگولیٹری سینڈ باکس قائم کیا گیا اور ورچوئل اثاثہ خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے لائسنسنگ قواعد متعارف کرائے گئے۔
ان اقدامات کا مقصد، حکام کے مطابق، نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر غیر منظم چھوڑنے کے بجائے نگرانی، تجرباتی ضابطہ کاری اور لائسنسنگ کے دائرے میں لانا ہے۔ ٹوکنائزیشن سے مراد روایتی یا ڈیجیٹل اثاثوں اور مالی حقوق کو ایسے ڈیجیٹل ٹوکن کی شکل میں پیش کرنا ہے جو مخصوص قواعد کے تحت منتقل یا استعمال کیے جا سکیں۔
بلال بن ثاقب کا خطاب پاکستان کی ڈیجیٹل اثاثہ پالیسی کو وسیع تر مالی شمولیت کے مباحثے سے جوڑتا ہے۔ تاہم مالی شمولیت پر اے آئی اور ٹوکنائزیشن کے حقیقی اثرات کا انحصار صارف تحفظ، ڈیٹا کی حفاظت، قابل عمل ضابطہ کاری، مالیاتی خواندگی اور خدمات کی لاگت سمیت متعدد عوامل پر ہوگا۔ فورم میں پیش کیے گئے اعداد اور پالیسی نکات اس سمت میں حکومتی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، نہ کہ مستقبل کے نتائج کی ضمانت۔
