نیویارک: پاکستان اور آسٹریا نے تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعلقات، تعلیم اور عوامی روابط میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آسٹریا کی وزیر برائے یورپی و بین الاقوامی امور بیاتے مائنل رائزنگر کے درمیان یہ ملاقات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور آسٹریا کے تعلقات کی موجودہ سمت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اقتصادی و تعلیمی شعبوں میں رابطے بڑھانے کی ضرورت پر گفتگو کی۔ سرکاری بیان میں کسی نئے تجارتی معاہدے، سرمایہ کاری پیکیج یا مخصوص مالی ہدف کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے معاملات پر قریبی رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال، بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جاری پیش رفت، بھی زیر بحث آئی۔ اسحاق ڈار نے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری، اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی اہمیت پر زور دیا۔ آسٹریا کی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا اور عالمی مسائل کے حل کے لیے مسلسل سفارتی رابطے کو اہم قرار دیا۔
اے پی پی کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تمام فریقوں کی جانب سے مکمل عملدرآمد کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ یہ نکتہ جاری علاقائی سفارت کاری کے تناظر میں اٹھایا گیا، تاہم ملاقات کے سرکاری خلاصے میں اس حوالے سے کسی نئے عملی طریقہ کار یا ٹائم لائن کی تفصیل نہیں دی گئی۔
پاکستان اور آسٹریا کے تعلقات میں تجارت اور تعلیم کے ساتھ عوامی روابط بھی ایک اہم شعبہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے تعاون کا عملی حجم متعلقہ وزارتوں، کاروباری اداروں، تعلیمی اداروں اور سفارتی رابطوں کے ذریعے طے ہوگا۔ موجودہ ملاقات نے سیاسی سطح پر تعاون بڑھانے کی خواہش کی تصدیق کی ہے، لیکن اسے کسی مخصوص منصوبے کی حتمی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی دوطرفہ ملاقاتیں مختلف ممالک کو مختصر وقت میں اعلیٰ سطح کے رابطوں کا موقع دیتی ہیں۔ پاکستان اور آسٹریا کی ملاقات بھی اسی سفارتی سلسلے کا حصہ تھی، جس میں دوطرفہ اقتصادی تعلقات کے ساتھ خطے کی سکیورٹی اور عالمی سفارت کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

