پاکستان نے ایشین گیمز 2026 کے مردوں کے والی بال کوارٹر فائنل میں بھارت کو مسلسل تین سیٹس میں شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ جاپان کے اوکازاکی چوؤ سوگو پارک جمنازیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے 25-19، 25-23 اور 25-18 سے کامیابی حاصل کی۔

ڈان کے مطابق پاکستان کی جانب سے مراد خان نے سب سے زیادہ 22 پوائنٹس حاصل کیے اور پورے میچ میں حملے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ عثمان فریاد علی نے نو، محمد حماد نے آٹھ، مصور خان نے سات جبکہ کپتان مراد جہان نے چار پوائنٹس اسکور کیے۔ پاکستان نے ابتدا ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا اور بھارت کو پہلے سیٹ میں 25-19 سے پیچھے چھوڑ دیا۔

دوسرا سیٹ میچ کا سب سے مسابقتی مرحلہ تھا۔ دونوں ٹیمیں 9-9 تک برابر رہیں، جس کے بعد بھارت نے برتری حاصل کی اور ایک وقت میں 19-16 سے آگے تھا۔ پاکستان نے مسلسل تین پوائنٹس لے کر اسکور برابر کیا، پھر اپنی سروس اور بلاکنگ میں بہتری کے ذریعے 21-19 کی برتری حاصل کی۔ بھارت نے فرق کم کرنے کی کوشش کی مگر پاکستان نے دوسرا سیٹ 25-23 سے جیت کر میچ پر مضبوط گرفت قائم کر لی۔

تیسرے سیٹ میں پاکستان نے نسبتاً یکطرفہ برتری قائم رکھی۔ ابتدائی پوائنٹس کے بعد قومی ٹیم 8-4، پھر 14-9 اور 17-10 سے آگے نکلی۔ نیٹ پر حملوں اور دفاعی ردِعمل میں برتری کے باعث بھارت واپسی نہ کر سکا۔ پاکستان نے 24-16 پر میچ پوائنٹ حاصل کیا؛ بھارت نے دو میچ پوائنٹس بچائے، لیکن پاکستان نے اگلے موقع پر سیٹ 25-18 سے ختم کر کے 3-0 کی کامیابی مکمل کر لی۔

ٹورنامنٹ میں پاکستان نے اس سے قبل قازقستان کو 3-1 اور ازبکستان کو 3-0 سے شکست دی تھی، جبکہ میزبان جاپان کے خلاف آخری پول میچ میں اسے سیدھے سیٹس میں شکست ہوئی تھی۔ پاکستان پول اے میں دوسرے نمبر پر رہ کر ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچا۔ دوسری جانب بھارت اپنے پول میں ناقابلِ شکست تھا اور ویتنام و ہانگ کانگ کو 3-0 سے ہرانے کے بعد قطر کے خلاف پانچ سیٹ کے طویل مقابلے میں کامیاب ہوا تھا۔

پاکستان عالمی درجہ بندی میں 39ویں جبکہ بھارت 49ویں نمبر پر ہے۔ تازہ نتیجے کے ساتھ پاکستان نے ایشین گیمز میں مسلسل دوسری بار بھارت کو شکست دی ہے اور اب میڈل کی دوڑ میں برقرار ہے۔ سیمی فائنل میں حریف اور اگلے میچ کی تفصیلات ٹورنامنٹ شیڈول کے مطابق طے ہوں گی۔

والی بال میں یہ کامیابی پاکستان کے لیے اہم اس لیے بھی ہے کہ ٹیم نے ایک ایسے مقابلے میں دباؤ سنبھالا جہاں دوسرے سیٹ میں بھارت کو واضح برتری حاصل ہو چکی تھی۔ میچ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے پہلے سیٹ میں حملوں کی کامیابی کی شرح میں بھی برتری دکھائی اور بعد کے سیٹس میں ریسیپشن، دفاع اور نیٹ کنٹرول بہتر کرتے ہوئے نتیجہ اپنے حق میں رکھا۔