پاکستان نے پورٹ آف اسپین میں دوسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز ویسٹ انڈیز کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ 75 رنز کے ہدف کے تعاقب میں مہمان ٹیم نے 77 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر بنائے اور دوپہر کے کھانے کے وقفے کے کچھ دیر بعد میچ ختم کر دیا۔

کپتان بابر اعظم اور عبداللہ شفیق 24، 24 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ بابر نے جومیل واریکن کے خلاف مسلسل دو چھکے لگا کر فتح مکمل کی۔ ابتدائی مرحلے میں امام الحق 9 رنز پر جیڈن سیلز کی گیند پر آؤٹ ہوئے، جبکہ اذان اویس 18 رنز بنانے کے بعد شمر جوزف کا شکار بنے۔

پاکستانی جیت کی بنیاد ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز میں اسپنرز نے رکھی۔ ساجد خان نے 32 رنز دے کر چار اور بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان نے 39 رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں۔ میزبان ٹیم 117 رنز پر آؤٹ ہوئی اور پاکستان کو ایک ایسا ہدف ملا جس کے لیے طویل شراکت کے بجائے محتاط آغاز درکار تھا۔

ویسٹ انڈیز نے دن کا آغاز 106 رنز تین کھلاڑی آؤٹ سے کیا مگر آخری سات وکٹیں صرف 11 رنز کے اضافے سے گر گئیں۔ علی عثمان نے کیمار روچ اور شمر جوزف کو جلد رخصت کیا، جبکہ جسٹن گریوز محمد علی کی گیند اپنے اسٹمپس پر کھیل بیٹھے۔ کمر کی تکلیف کے باعث برینڈن کنگ دوسری اننگز میں بیٹنگ نہ کر سکے۔

اس سے پہلے پاکستان نے پہلی اننگز میں 43 رنز کی برتری حاصل کی تھی۔ عبداللہ شفیق نے سنچری بنائی، لیکن واریکن کی چھ وکٹوں نے فرق کو زیادہ بڑھنے نہیں دیا۔ ویسٹ انڈیز نے پہلا ٹیسٹ 90 رنز سے جیتا تھا، اس لیے دوسرے میچ کی کامیابی پاکستان کے لیے سیریز بچانے کے ساتھ فوری جواب بھی بنی۔

یہ جولائی 2023 کے بعد پاکستان کی بیرونِ ملک پہلی ٹیسٹ جیت ہے۔ درمیان میں ٹیم آسٹریلیا میں تین، جنوبی افریقہ میں دو، بنگلہ دیش میں دو اور ویسٹ انڈیز کے خلاف اسی سیریز کا پہلا میچ ہاری تھی۔ اگلی آزمائش انگلینڈ میں تین ٹیسٹ ہیں، جہاں بیٹنگ کی مستقل مزاجی اور تیز بولنگ کے لیے مختلف حالات میں ٹیم توازن دوبارہ جانچا جائے گا۔