اسلام آباد: قطر سے پاکستان کے لیے مائع قدرتی گیس لے جانے والے ایل این جی کیریئر المیادہ کو آبنائے ہرمز کے قریب حملے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد جہاز نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔ بزنس ریکارڈر نے این این آئی اور بلومبرگ کی معلومات کے حوالے سے بتایا کہ واقعہ 30 اکتوبر کو پیش آیا اور اس کے باعث پاکستان کے لیے گیس کی کھیپ کی بروقت ترسیل کے بارے میں غیر یقینی پیدا ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق المیادہ مارشل آئی لینڈز کے پرچم کے تحت سفر کر رہا تھا اور قطر سے ایل این جی لے کر پاکستان کی جانب آ رہا تھا۔ پاکستانی حکام نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز سے جہاز کی محفوظ گزرگاہ کے معاملے پر ایرانی حکام سے رابطہ کیا تھا۔ رپورٹ میں واقف ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ ایران نے جہاز کو گزرنے کی اجازت دی تھی، تاہم اس دعوے کی آزادانہ سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اطلاعات کے مطابق اجازت ملنے کے چند گھنٹے بعد ہی جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے بعد ٹینکر نے اپنا راستہ تبدیل کیا۔ دستیاب رپورٹ میں حملہ کرنے والے فریق کی شناخت نہیں کی گئی اور نہ ہی واقعے کے مکمل حالات کی حتمی وضاحت سامنے آئی ہے۔ اسی لیے ذمہ داری سے متعلق کسی فریق پر الزام کو ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ واقعہ پاکستان کے لیے اس وجہ سے اہم ہے کہ ملک اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے اور خلیجی خطے سے آنے والی بحری سپلائی میں خلل مقامی توانائی نظام پر اثر ڈال سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شامل ہے، اس لیے خطے میں سکیورٹی کی خرابی جہاز رانی، انشورنس، فریٹ اور توانائی کی قیمتوں پر فوری دباؤ ڈال سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جہاز یا عملے کو کتنا نقصان پہنچا، اور نہ ہی پاکستان پہنچنے والی کھیپ کے لیے نئی حتمی تاریخ بتائی گئی ہے۔ اس مرحلے پر اہم تصدیق شدہ نکتہ یہی ہے کہ پاکستان جانے والا ایل این جی جہاز حملے کے بعد راستہ تبدیل کر گیا، جبکہ ذمہ داری اور واقعے کی مکمل نوعیت بدستور غیر واضح ہے۔
پاکستانی توانائی حکام کے لیے ایسے واقعات سردیوں سے قبل درآمدی ایندھن کی دستیابی اور متبادل سپلائی انتظامات کی اہمیت بڑھا دیتے ہیں۔ اگر کسی ایک کھیپ میں تاخیر ہوتی ہے تو اس کے عملی اثرات کا انحصار مقامی ذخائر، دیگر طے شدہ کارگوز اور بجلی و گیس کے شعبوں کی طلب پر ہوگا۔ دستیاب معلومات میں کسی فوری ملکی قلت کی تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے اس واقعے کو فی الحال ایک اہم سپلائی رسک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ ثابت شدہ قومی گیس بحران کے طور پر۔
