وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے کاروباری اور سرمایہ کاری ماحول کو آسان بنانے کے لیے تمام ریگولیٹری تقاضوں، قواعد اور ضوابط کو ایک جامع قومی رجسٹری میں یکجا کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ڈان اور پاکستان ٹوڈے کے مطابق وزیراعظم نے 2 اکتوبر کو ریگولیٹری اصلاحات کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مختلف اداروں کے قواعد کو جدید، شفاف اور زیادہ ہم آہنگ بنانے پر زور دیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کابینہ کی ریگولیٹری ریفارمز کمیٹی سات کثیر شعبہ جاتی شعبوں میں 557 اصلاحات کی منظوری دے چکی ہے۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق ان اصلاحات سے کاروباری اداروں کو سالانہ تقریباً 460 ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔ یہ رقم سرکاری تخمینہ ہے اور اس کے حقیقی اثرات کا انحصار اصلاحات کے عملی نفاذ، تعمیل کی لاگت اور کاروباری سرگرمیوں میں آنے والی تبدیلیوں پر ہوگا۔ وزیراعظم نے اسی لیے اصلاحات کی تیسرے فریق سے جانچ کرانے کی ہدایت بھی دی تاکہ ان کے نتائج کا آزادانہ اندازہ کیا جا سکے۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ایز آف ڈوئنگ بزنس ایکٹ کے نفاذ اور صوبوں کے درمیان ریگولیٹری نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کو ہدایت دی کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ بڑھایا جائے اور کاروباری برادری کو دستیاب سہولتوں اور نئے طریقہ کار سے آگاہ کیا جائے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت ہارون اختر خان کو صوبوں کے دوروں میں اس رابطہ عمل کی قیادت کی ذمہ داری دینے کی بھی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں ای بز پنجاب اور اسلام آباد کے بزنس فیسلیٹیشن سینٹر کے نظام کو باہم مربوط کرنے کے لیے مارچ 2027 کی مدت مقرر کی گئی۔ سرکاری اعداد کے مطابق اسلام آباد بزنس فیسلیٹیشن سینٹر کے ذریعے 8,717 درخواستیں شروع کی گئیں جن میں 71 فیصد مکمل ہوئیں، جبکہ 4,612 نئے کاروباروں کو سہولت فراہم کی گئی۔ حکومت برآمدی اور درآمدی پالیسی آرڈرز کو بھی آسان بنانے پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے غیر ضروری ضوابط کم کرنا اور کاروباری اداروں کے لیے قواعد کو قابل فہم بنانا ضروری ہے۔ حکومت نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں کی گئی تبدیلیوں کو دیگر ریگولیٹری اداروں کے لیے مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ آئندہ مرحلے میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ منظور شدہ اصلاحات وفاق اور صوبوں میں کتنی تیزی سے نافذ ہوتی ہیں اور آیا کاروباروں کو لائسنس، اجازت ناموں اور تعمیل کے عمل میں واقعی وقت اور لاگت کی قابل پیمائش کمی ملتی ہے۔