کراچی: پاکستان میں نئی اور استعمال شدہ موٹر کاروں کی درآمد میں رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ جولائی اور اگست 2026 میں موٹر کاروں کی مجموعی درآمدی مالیت 81.4 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 59 ملین ڈالر کے مقابلے میں 36 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئی گاڑیوں کی درآمد میں بعض نئے برانڈز اور خاص طور پر نئی توانائی والی گاڑیوں کے ماڈلز کی آمد نے کردار ادا کیا ہے۔ کئی کمپنیاں مقامی اسمبلی شروع کرنے سے پہلے مکمل تیار شدہ یونٹس درآمد کر رہی ہیں تاکہ مارکیٹ میں اپنے ماڈلز متعارف کرا سکیں۔ آٹو صنعت سے وابستہ نمائندوں کے مطابق بڑی چینی کمپنیوں کی نئی توانائی والی گاڑیوں کی درآمد تقریباً 1,500 سے 2,000 یونٹس ماہانہ تک بتائی گئی ہے۔
استعمال شدہ گاڑیوں کے حوالے سے اعداد بتاتے ہیں کہ جولائی میں گفٹ، بیگیج اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیموں کے تحت مجموعی طور پر 1,938 گاڑیاں درآمد ہوئیں۔ اگست میں یہ تعداد کم ہو کر 1,445 رہی، جن میں زیادہ تر گاڑیاں گفٹ اسکیم کے ذریعے آئیں۔ صنعت کے ایک نمائندے کے مطابق جولائی اور اگست میں استعمال شدہ گاڑیوں کی مجموعی درآمد تقریباً 3,200 یونٹس رہی۔
حکومت نے رواں سال جنوری میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے بیگیج اسکیم ختم کر دی تھی اور گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیموں کے تحت آنے والی گاڑیوں کے لیے پری شپمنٹ انسپیکشن لازمی کیا تھا۔ اس کے باوجود آٹو پارٹس اور مقامی اسمبلنگ سے وابستہ حلقے درآمدات کے رجحان پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ مکمل تیار شدہ درآمدی گاڑیوں میں اضافہ مقامی پرزہ ساز صنعت، روزگار اور مقامی ویلیو ایڈیشن پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
دوسری جانب نئی توانائی والی گاڑیوں کی درآمد کو تیل کے درآمدی بل میں کمی اور نئی ٹیکنالوجی کے فروغ سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ اس لیے موجودہ اعداد صرف درآمدات میں اضافے کی تصویر پیش کرتے ہیں؛ اس کے وسیع صنعتی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کتنی کمپنیاں مقامی اسمبلی شروع کرتی ہیں، درآمدی پالیسی میں مزید کیا تبدیلی آتی ہے اور مقامی پرزہ سازی کس رفتار سے نئی ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھلتی ہے۔
