اسلام آباد/اولان باتور: پاکستان نے وسطی ایشیائی علاقائی اقتصادی تعاون (CAREC) کے رکن ممالک کے درمیان تجارت اور رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے کسٹمز ضوابط کو ہم آہنگ کرنے، سرحدی عمل کو ڈیجیٹل بنانے اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تجویز پیش کی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں CAREC وزارتی کانفرنس کے دوران کہا کہ خطے کو صرف رابطہ کاری پر گفتگو سے آگے بڑھ کر ایسے عملی تجارتی کوریڈور بنانے کی ضرورت ہے جنہیں کاروبار قابل اعتماد اور مسابقتی انداز میں استعمال کر سکیں۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیر نے سرحدوں پر کارگو کی نقل و حرکت میں تاخیر کم کرنے کے لیے کسٹمز قواعد میں ہم آہنگی اور بارڈر پروسیسز کی ڈیجیٹلائزیشن پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے CAREC Digital Corridor کے تصور کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال تجارت اور علاقائی رابطہ کاری کو تیز، بہتر اور زیادہ پیداواری بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
وزارت منصوبہ بندی کے سرکاری بیان میں بھی پاکستان کی توجہ CAREC کوریڈورز 5 اور 6 کو اگلی نسل کے اقتصادی راستوں میں تبدیل کرنے پر مرکوز بتائی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سڑکوں کے ساتھ جدید سرحدی سہولتیں، ریل فریٹ صلاحیت، خشک بندرگاہیں، سمندری بندرگاہیں اور ڈیجیٹل رابطہ ایک دوسرے سے منسلک ہوں تو وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب اور جنوبی ایشیا کی منڈیوں تک زیادہ مؤثر رسائی مل سکتی ہے۔
احسن اقبال نے اس تناظر میں یہ بھی کہا کہ علاقائی انفراسٹرکچر کے لیے صرف حکومتوں پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق نجی شعبے کو شامل کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس مضبوط کرنے سے سڑکوں، ریلوے، لاجسٹکس اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں سرمایہ کاری بڑھائی جا سکتی ہے۔ پاکستان 2027 میں اگلی CAREC وزارتی کانفرنس کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ اس دوران عملی تعاون کو آگے بڑھانا ترجیح ہوگی۔
CAREC پروگرام وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور ہمسایہ معیشتوں کے درمیان نقل و حمل، تجارت، توانائی اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے قائم علاقائی پلیٹ فارم ہے۔ پاکستان کی تازہ تجویز کا مرکز سرحدی کاغذی کارروائی اور مختلف ممالک کے الگ الگ کسٹمز طریقہ کار کو زیادہ ہم آہنگ اور ڈیجیٹل بنانا ہے تاکہ مال برداری میں وقت اور لاگت کم کی جا سکے۔
ابھی یہ ایک پالیسی تجویز اور علاقائی تعاون کا ایجنڈا ہے؛ کسی مشترکہ AI نظام، لازمی ڈیجیٹل پلیٹ فارم یا نفاذ کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو رکن ممالک کے لیے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ سمت اور ترجیح سمجھا جائے، نہ کہ پہلے سے منظور شدہ پورے خطے کا نافذ العمل نظام۔
