کراچی: پاکستان کی سیمنٹ صنعت میں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران مقامی طلب میں بہتری دیکھی گئی، تاہم برآمدی ترسیل میں کمی ریکارڈ ہوئی۔ آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران مقامی سیمنٹ ترسیل 10.845 ملین ٹن رہی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 10.062 ملین ٹن کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد زیادہ ہے۔
اس کے برعکس پہلی سہ ماہی میں سیمنٹ کی برآمدی ترسیل 11.31 فیصد کم ہوکر 2.296 ملین ٹن رہ گئی، جبکہ ایک سال پہلے اسی عرصے میں یہ مقدار 2.589 ملین ٹن تھی۔ مقامی فروخت اور برآمدات کو ملا کر مجموعی ترسیل 13.141 ملین ٹن رہی، جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
صرف ستمبر کے اعداد و شمار میں مقامی سیمنٹ ترسیل 3.788 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی، جو ستمبر 2025 کے 3.529 ملین ٹن کے مقابلے میں 7.35 فیصد زیادہ ہے۔ برآمدی ترسیل ستمبر میں تقریباً مستحکم رہی اور 832,173 ٹن ریکارڈ ہوئی، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ 831,966 ٹن تھی۔ یوں ستمبر میں مجموعی ترسیل 4.621 ملین ٹن رہی، جو ایک سال پہلے کے 4.361 ملین ٹن سے تقریباً 6 فیصد زیادہ ہے۔
سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے برآمدات میں کمی اور توانائی کی قیمتوں میں عدم استحکام پر تشویش ظاہر کی۔ صنعت کے لیے ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات اہم لاگتی عوامل ہیں، اس لیے ان میں اتار چڑھاؤ پیداواری لاگت اور برآمدی مسابقت دونوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ ترجمان نے امید ظاہر کی کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی سے سیمنٹ اور متعلقہ صنعتوں کو درپیش دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
ٹاپ لائن سکیورٹیز کی تجزیہ کار رابعہ یوسف کے مطابق ستمبر میں سیمنٹ صنعت کی مجموعی پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح تقریباً 51 فیصد رہی، جو ستمبر 2025 میں 50 فیصد اور اگست 2026 میں 47 فیصد تھی۔ ان کے مطابق ستمبر میں اوسط ریٹیل سیمنٹ قیمت سالانہ بنیاد پر تقریباً 10 فیصد بڑھ کر 1,550 روپے فی بوری ہوگئی، جس کی بڑی وجوہ میں ایندھن اور ٹرانسپورٹ کی زیادہ لاگت شامل تھی۔
اعداد و شمار مقامی تعمیراتی سرگرمی میں کچھ بہتری کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن برآمدات میں کمی صنعت کے بیرونی شعبے کے لیے چیلنج برقرار رہنے کی نشاندہی کرتی ہے۔ آنے والے مہینوں میں توانائی کی قیمتیں، تعمیراتی طلب اور علاقائی تجارتی حالات سیمنٹ کی فروخت کے رجحان پر اثرانداز ہوں گے۔
