اسلام آباد: پاکستان کی صدارت میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے قومی رابطہ کاروں کی کونسل کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جہاں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے رکن ممالک کے نمائندوں سے تنظیم کے مشترکہ وژن کو عملی تعاون اور قابلِ پیمائش نتائج میں بدلنے پر زور دیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں ایس سی او سیکریٹریٹ اور تنظیم کے ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کے سینئر نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

پاکستان نے 2026-27 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالی ہے۔ اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اپنی صدارت کو کھلے، جامع اور تعمیری انداز میں چلانا چاہتا ہے اور تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، مساوات، مشاورت اور مشترکہ ترقی کے اصولوں کو آگے بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ یہ مؤقف وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں درج ہے۔

پاکستان کی صدارت کے لیے ’Turning Vision into Action: Connectivity, Innovation, and Shared Prosperity‘ کا موضوع اختیار کیا گیا ہے۔ اجلاس میں علاقائی رابطہ کاری، جدت، اقتصادی تعاون اور مشترکہ خوشحالی سے متعلق سرگرمیوں پر بات ہوئی، جبکہ آئندہ اجلاسوں اور تقریبات کے پروگرام پر بھی مشاورت کی گئی۔

وزیر خارجہ نے 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا اور رکن ممالک کے درمیان قریبی رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق قومی رابطہ کاروں کی کونسل تنظیم کی معمول کی سرگرمیوں اور سربراہی، حکومتی اور وزرائے خارجہ سطح کے اجلاسوں کی تیاری میں مرکزی رابطہ جاتی کردار ادا کرتی ہے۔

اجلاس میں بھارتی جانب سے بھی نمائندگی موجود تھی، اگرچہ پاکستان اور بھارت کے دوطرفہ تعلقات اس وقت کشیدہ ہیں۔ ایس سی او ایک کثیرملکی علاقائی فورم ہے، اس لیے تنظیم کے اجلاسوں میں شرکت کو لازماً پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ سیاسی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ رکن ممالک اپنے قومی رابطہ کار مقرر کرتے ہیں اور کونسل کم از کم سال میں تین مرتبہ اجلاس کر سکتی ہے۔

پاکستان نے رواں ماہ بشکیک میں ایس سی او سربراہی اجلاس کے دوران تنظیم کی صدارت سنبھالی تھی۔ اس مدت میں اسلام آباد کو متعدد متعلقہ اجلاسوں کی میزبانی اور 2027 کے سربراہی اجلاس کی انتظامی و سفارتی تیاری کرنی ہے۔ تازہ اجلاس اسی عمل کا حصہ ہے اور اس میں کسی نئے باقاعدہ معاہدے یا رکن ممالک کے درمیان دوطرفہ تنازع کے حل کا اعلان نہیں کیا گیا۔