پاکستان اور چین نے عملی ترقیاتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مادی معاونت، تعمیراتی منصوبوں، ٹیکنالوجی سپورٹ اور مقامی اداروں کی استعداد بڑھانے سمیت متعدد شعبوں پر بات چیت کی ہے۔ 22 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت، صنعت و پیداوار رانا احسان افضل خان نے چائنا انٹرنیشنل سینٹر فار اکنامک اینڈ ٹیکنیکل ایکسچینجز (CICETE) کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی۔

پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق چینی وفد کی قیادت CICETE کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل لی شوئین نے کی۔ ملاقات میں وزارت تجارت کے ایڈیشنل سیکریٹری ٹریڈ ڈپلومیسی ناصر حامد اور اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ دونوں فریقوں نے پاکستان میں چین کے تعاون سے جاری ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور ان ممکنہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جو پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق گفتگو کا محور ایسی عملی شراکت داری تھی جس میں صرف مالی یا مادی معاونت ہی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، تعمیراتی منصوبوں کے لیے تکنیکی تعاون اور مقامی صلاحیتوں کی مضبوطی بھی شامل ہو۔ پاکستانی جانب نے ترقیاتی منصوبوں میں ادارہ جاتی رابطہ کاری اور ایسے تعاون کی اہمیت پر زور دیا جس سے طویل مدتی مقامی فوائد پیدا ہوں۔

CICETE چین کی وزارت تجارت سے وابستہ ادارہ ہے اور مختلف ممالک میں اقتصادی و تکنیکی تعاون کے منصوبوں میں کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ اس نوعیت کی بات چیت چین پاکستان اقتصادی تعلقات کے وسیع تر دائرے سے جڑی ہے، تاہم 22 ستمبر کی ملاقات میں کسی نئے بڑے منصوبے کی حتمی منظوری، لاگت یا تکمیل کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس ملاقات کو نئی سرمایہ کاری یا کسی مخصوص تعمیراتی منصوبے کی باضابطہ منظوری کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

دستیاب سرکاری تفصیلات سے یہ واضح ہے کہ دونوں فریق جاری اور مستقبل کے ترقیاتی اقدامات پر رابطہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ کسی مخصوص منصوبے کی منظوری یا مالی حجم سے متعلق مزید معلومات متعلقہ سرکاری فیصلوں اور بعد کے اعلانات کے بعد ہی واضح ہوں گی۔