اسلام آباد: پاکستان اور چین نے دوطرفہ معلوماتی، میڈیا اور عوامی روابط کو منظم انداز میں بڑھانے کے لیے چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور (سی پی آئی سی) کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ اور پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق نئی راہداری چار بنیادی ستونوں پر کام کرے گی: میڈیا، کاروبار و انٹرپرائز، تھنک ٹینکس، اور ثقافت و سیاحت۔ میڈیا کے شعبے میں پاکستان اور چین کے 18 میڈیا اداروں پر مشتمل نیوز ایکسچینج ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعاون سے متعلق معلومات کا تبادلہ اور تصدیق شدہ مواد کی رسائی بہتر بنانا ہے۔
منصوبے میں ایک مخصوص فیکٹ چیکنگ میکانزم بھی شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جو گمراہ کن یا غلط بیانی پر مبنی مواد کی نشاندہی اور حقائق کی بنیاد پر جواب دینے کے لیے استعمال ہوگا۔ کاروباری ستون کے تحت پاکستانی اور چینی تجارتی اداروں کو جوڑنے کی کوشش کی جائے گی۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اس حصے کا پہلا علاقائی دفتر کراچی میں کھولا گیا ہے جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق معلومات کے لیے ایک تجارتی پورٹل بھی تیار کیا جا رہا ہے۔
تیسرے ستون میں پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ سمیت تحقیقی اداروں اور چینی ہم منصب اداروں کے درمیان مشترکہ مکالمے، تحقیق اور اشاعتوں کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔ چوتھا ستون ثقافت اور سیاحت سے متعلق ہے، جس میں سنکیانگ اور گلگت بلتستان کے درمیان سیاحتی روابط بڑھانے پر کام شامل ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان کی 13 جامعات سے سی پیک یوتھ ایمبیسیڈرز کا پہلا گروپ بھی نامزد کیا جا چکا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے سی پی آئی سی کو بنیادی طور پر ایک ڈیجیٹل راہداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نیوز ایکسچینج، فیکٹ چیکنگ، تجارتی پورٹل، پوڈکاسٹس، سوشل میڈیا چینلز اور نوجوان سفیر دونوں ممالک کے درمیان معلوماتی رابطے کے ذرائع ہوں گے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بھی تقریب میں غلط معلومات اور جعلی خبروں کے چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے چاروں ستونوں کو دوطرفہ تعاون اجاگر کرنے کے لیے اہم قرار دیا۔
یہ اقدام چین پاکستان اقتصادی راہداری سے الگ ایک معلوماتی و عوامی رابطے کا فریم ورک ہے۔ اس کے اعلان کے بعد اصل اثر کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تجارتی پورٹل، فیکٹ چیک نظام، میڈیا ورکنگ گروپ اور سیاحتی و تحقیقی تعاون کے عملی منصوبے کس رفتار اور شفافیت سے نافذ ہوتے ہیں۔

