اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب کے شہر مدینہ میں طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر 29 ستمبر کو ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔ دفترِ خارجہ نے 2 اکتوبر کو جاری بیان میں حملے کو شہری انفراسٹرکچر کے خلاف کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اسٹیشن مسجد نبوی ﷺ کو بھی بجلی فراہم کرتا ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان ایسے اقدامات کے فوری اور غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے جو عبادت گزاروں، زائرین اور شہری تنصیبات کے لیے خطرہ پیدا کریں۔ بیان میں حرمین شریفین کے تقدس، نمازیوں اور زائرین کے تحفظ کو ہر حالت میں یقینی بنانے پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ اس نوعیت کے حملے علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

سعودی زیرِ قیادت اتحاد نے ایک روز قبل کہا تھا کہ ڈرون کے ملبے کی جانچ اور تحقیقات سے اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ یمن کی حوثی تحریک نے منگل کو پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔ اتحاد کے مطابق حملے سے ایک ٹرانسفارمر متاثر ہوا، تاہم بجلی کے مجموعی نیٹ ورک کی فراہمی میں تعطل نہیں آیا۔ یہ ذمہ داری کا تعین سعودی اتحاد کی تحقیقات پر مبنی ہے؛ حوثی جانب کا تفصیلی مؤقف فوری طور پر ان پاکستانی رپورٹس میں شامل نہیں تھا۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت دہرائی۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور حرمین شریفین، سعودی عوام اور زائرین کے تحفظ کے لیے مملکت کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ اسلام آباد نے ساتھ ہی خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کا مؤقف بھی بیان کیا۔

ڈان اور بزنس ریکارڈر نے دفترِ خارجہ اور سعودی اتحاد کے بیانات کے حوالے سے واقعے کی تفصیلات رپورٹ کیں۔ دونوں رپورٹس میں پاور اسٹیشن کے مقام اور مسجد نبوی ﷺ کو بجلی کی فراہمی کے حوالے کو نمایاں کیا گیا۔ حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بجلی بند ہونے یا جانی نقصان کی اطلاع ان دستیاب رپورٹس میں نہیں دی گئی۔

یہ واقعہ یمن سے جڑے علاقائی تنازع کے ایک حساس مرحلے میں پیش آیا ہے۔ پاکستان کا تازہ بیان کسی نئی فوجی شمولیت کا اعلان نہیں بلکہ حملے کی سفارتی مذمت اور سعودی عرب کے ساتھ سیاسی یکجہتی کا اظہار ہے۔ واقعے سے متعلق ذمہ داری اور تکنیکی تفصیلات کے لیے سعودی تحقیقات بنیادی ذریعہ ہیں، اس لیے مزید آزاد یا فریقِ ثانی کی معلومات سامنے آنے پر صورتِ حال کی تصویر مزید واضح ہوسکتی ہے۔