اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب کے مکہ اور مدینہ کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے حوثی بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سفیر سجاد حیدر خان نے ایک بیان میں کہا کہ مقدس مقامات کے قرب و جوار کو نشانہ بنانے والے ایسے حملے شہریوں کی سلامتی اور اسلامی مقدسات کے احترام کے حوالے سے بھی تشویش ناک ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور مملکت کی سلامتی، استحکام اور دفاع کے لیے حمایت برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ بیان میں بالخصوص حرمین شریفین کے تحفظ کو اہم قرار دیا گیا اور کسی بیرونی جارحیت یا خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
پاکستانی ترجمان نے سعودی فضائی دفاعی فورسز کی کارروائی اور نگرانی کو بھی سراہا۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان مکہ الائنس کے تحت اپنی وابستگی پر قائم ہے۔ یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے توانائی منڈیوں، فضائی و بحری راستوں اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کر رکھا ہے۔
پاکستان کا تازہ ردعمل ایک سفارتی مذمتی بیان ہے اور اس میں کسی نئی فوجی تعیناتی یا عملی اقدام کی تفصیل کا اعلان نہیں کیا گیا۔ حکومت نے اپنی توجہ سعودی عرب کی خودمختاری، شہریوں کی سلامتی اور مقدس مقامات کے تحفظ کے اصولوں پر مرکوز رکھی ہے۔ حملوں کی نوعیت اور ان کے علاقائی اثرات سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ سعودی اور بین الاقوامی حکام کی معلومات سے واضح ہوں گی۔
اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دفاعی اور سیاسی تعاون دیرینہ ہے، جبکہ حالیہ علاقائی بحران میں پاکستان مسلسل کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستوں کی حمایت کا مؤقف پیش کرتا رہا ہے۔ تازہ بیان میں بھی سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے لیے حمایت کے ساتھ علاقائی استحکام کی اہمیت نمایاں کی گئی ہے۔
