لاہور: پاکستان میں کپاس کی فصل کے ابتدائی مضبوط رجحان کے بعد ستمبر کے دوسرے نصف میں جننگ فیکٹریوں تک آمد کی رفتار نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق 30 ستمبر تک مجموعی آمد 3.208 ملین گانٹھیں رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 5.39 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ ایک ماہ پہلے کی رفتار سے خاصا کم ہے، جب سازگار موسم کے باعث پیداوار گزشتہ سال سے تقریباً 27 فیصد آگے چل رہی تھی۔
کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق کے مطابق حالیہ غیر معمولی بلند درجہ حرارت نے کپاس کے ٹینڈوں کو وقت سے پہلے کھول دیا۔ ابتدا میں اس صورتحال سے فی ایکڑ پیداوار زیادہ دکھائی دی، لیکن بعد میں آمد میں تیزی سے کمی آئی۔ 16 سے 30 ستمبر کے پندرہ روزہ عرصے میں تقریباً 8 لاکھ 20 ہزار گانٹھیں فیکٹریوں تک پہنچیں، جبکہ توقع تقریباً 11 لاکھ گانٹھوں کی تھی۔
علاقائی سطح پر پنجاب میں 1.214 ملین گانٹھیں موصول ہوئیں، جو سالانہ بنیاد پر 6.91 فیصد زیادہ ہیں۔ سندھ میں 1.993 ملین گانٹھوں کی آمد ریکارڈ ہوئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.48 فیصد اضافہ ہے۔ مجموعی اعداد و شمار اگرچہ اب بھی گزشتہ سال سے اوپر ہیں، مگر رفتار میں کمی نے ٹیکسٹائل اور جننگ صنعت میں حتمی فصل کے حجم سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ساجد محمود نے خبردار کیا کہ پیداوار میں سست روی کے ساتھ گلابی سنڈی کے ابھرتے خطرات اور روئی میں آلودگی سے متعلق شکایات مقامی خام کپاس کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔ اگر ملکی پیداوار صنعت کی ضرورت سے کم رہی تو درآمدی کپاس پر انحصار بڑھنے کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
صنعت کو یہ توقع بھی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ڈیجیٹل انوائسنگ کے سخت نفاذ سے غیر دستاویزی تجارت میں کمی آئے گی۔ ماضی میں اندازاً 15 سے 20 لاکھ گانٹھیں سالانہ ایسے لین دین میں شامل رہتی تھیں جو باقاعدہ ریکارڈ میں مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتیں۔ بہتر دستاویز بندی سے حقیقی پیداوار اور تجارتی بہاؤ کے اعداد و شمار زیادہ واضح ہو سکتے ہیں۔
کپاس پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے بنیادی خام مال ہے، اس لیے فصل کے حجم میں تبدیلی براہ راست جنرز، اسپنرز، برآمد کنندگان اور درآمدی ضرورت پر اثر ڈال سکتی ہے۔ آنے والے ہفتوں کی آمد یہ واضح کرے گی کہ ستمبر کی سست روی عارضی تھی یا مجموعی فصل کے تخمینے میں نمایاں کمی کا پیش خیمہ ہے۔
