نیویارک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے موقع پر دو ریاستی حل سے متعلق بین الاقوامی اجلاس میں پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ ختم کرنے اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کو عملی شکل دینے پر زور دیا ہے۔ اجلاس فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اور برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم کی میزبانی میں منعقد ہوا۔
ڈان کے مطابق دفتر خارجہ نے بتایا کہ اجلاس کا عنوان ’’نیو یارک اعلامیے اور جامع 20 نکاتی امن منصوبے کے ایک سال بعد: آگے کا راستہ‘‘ تھا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی شرکت مختلف سفارتی اقدامات میں اسی مقصد کے لیے رہی ہے کہ غزہ میں خونریزی اور انسانی مصائب کا خاتمہ ہو، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب قابلِ اعتبار سیاسی عمل آگے بڑھے۔
انہوں نے پاکستان کا دیرینہ مؤقف دہراتے ہوئے 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ ڈار نے کہا کہ فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور ریاستی حیثیت کے حصول کے لیے مختلف سفارتی عمل ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی راستے کے تکمیلی حصے ہونے چاہئیں۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، انسانی جانوں کے نقصان، مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کے تنازع سے متعلق فریقین کئی قانونی، تاریخی اور سکیورٹی معاملات پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں، تاہم اقوام متحدہ کے متعدد ادارے مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیلی بستیوں کے حوالے سے الگ قانونی قراردادیں اور آرا جاری کرتے رہے ہیں۔
اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، فلسطینی صدر محمود عباس اور متعدد یورپی و عرب رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ اسحاق ڈار نے 2025 کے نیویارک اعلامیے، غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد مستقل جنگ بندی، محفوظ اور مسلسل انسانی امداد، بحالی و تعمیر نو اور ایک ناقابلِ واپسی سیاسی عمل کے لیے حالات پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
دفتر خارجہ نے اس سے قبل اسحاق ڈار کے 21 سے 25 ستمبر تک نیویارک دورے کے پروگرام میں فلسطین سے متعلق متعدد اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کی تصدیق کی تھی۔ موجودہ اجلاس میں پاکستان نے کسی نئے دوطرفہ معاہدے کا اعلان نہیں کیا بلکہ اپنے پہلے سے بیان کردہ سفارتی اور سیاسی مؤقف کو بین الاقوامی فورم پر دہرایا ہے۔ آئندہ عملی پیش رفت متعلقہ امن منصوبوں، جنگ بندی کے نفاذ اور اسرائیلی و فلسطینی فریقوں سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے اقدامات پر منحصر ہوگی۔

