اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 85 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 400.67 روپے فی لیٹر ہوگئی، جبکہ پٹرول کی قیمت 377.91 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 30 اکتوبر 2026 سے کیا گیا ہے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق پٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت ایکس ڈپو نرخوں پر نظرثانی کی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی سابق قیمت 399.82 روپے فی لیٹر تھی، جس میں 85 پیسے کا اضافہ کیا گیا۔ اس کے برعکس پٹرول کی قیمت میں اس مرحلے پر کوئی مزید تبدیلی نہیں کی گئی۔
اوگرا کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل عالمی منڈی سے متعلق عوامل کی بنیاد پر کیا گیا، جن میں پلاٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات شامل ہیں۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتیں بین الاقوامی خام تیل اور تیار شدہ مصنوعات کے نرخوں، شرح مبادلہ، درآمدی لاگت، ٹیکسوں اور لیویز سمیت متعدد عناصر سے متاثر ہوتی ہیں، اس لیے عالمی منڈی میں تبدیلی مقامی صارفین تک مختلف انداز میں منتقل ہوسکتی ہے۔
یہ تازہ نظرثانی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عالمی تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو کمی ریکارڈ کی گئی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق برینٹ خام تیل کے فیوچرز 1.55 ڈالر کمی کے ساتھ 113.77 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 2 ڈالر کمی کے ساتھ 100.78 ڈالر فی بیرل پر تھا۔ رپورٹ میں عالمی منڈی کی اس حرکت کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے ساتھ سفارتی پیش رفت کی توقعات سے جوڑا گیا۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل پاکستان میں مال برداری، زرعی مشینری، بسوں اور دیگر تجارتی ٹرانسپورٹ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی نقل و حمل اور پیداواری لاگت پر اثر انداز ہوسکتی ہے، اگرچہ 85 پیسے کا موجودہ اضافہ نسبتاً محدود ہے۔ پٹرول کی قیمت برقرار رہنے سے موٹر سائیکل اور کار استعمال کرنے والے صارفین کے لیے اس نظرثانی میں براہ راست اضافی اضافہ نہیں ہوا۔
حکومت کی جانب سے اعلان کردہ نرخ 30 اکتوبر سے مؤثر ہیں۔ آئندہ قیمتوں کا تعین متعلقہ سرکاری جائزے، عالمی نرخوں اور ملکی پٹرولیم پرائسنگ فریم ورک کے مطابق ہوگا؛ اس لیے موجودہ نرخوں کو آئندہ مدت کے لیے مستقل قیمت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
