لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے برآمدی کریڈٹ انشورنس کے لیے 3 ارب روپے کا رسک پول قائم کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سہولت سے خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو بیرونی منڈیوں تک رسائی بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ڈان میں شائع ہونے والی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے 5 ستمبر کو لاہور میں ای ڈی ایف سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس منصوبے کا جائزہ لیا۔

رپورٹ کے مطابق 3 ارب روپے کے اس رسک پول کا مقصد برآمد کنندگان کے لیے ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس کی دستیابی بڑھانا ہے۔ ایسی انشورنس عام طور پر بیرون ملک خریدار سے ادائیگی میں تاخیر یا عدم ادائیگی جیسے تجارتی خطرات کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہے، جس سے بینکوں اور کاروباروں کے لیے برآمدی لین دین میں رسک مینجمنٹ آسان ہو سکتی ہے۔ حکومت نے اس سہولت کو خاص طور پر ایس ایم ایز کے لیے اہم قرار دیا ہے، کیونکہ چھوٹے کاروبار عموماً بڑے برآمد کنندگان کے مقابلے میں مالی اور انشورنس سہولتوں تک محدود رسائی رکھتے ہیں۔

اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کی تنظیم نو اور اصلاحات کے بعد اس کی قیادت میں نجی شعبے کے ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔ بریفنگ کے مطابق ای ڈی ایف کے پاس موجود 24 ارب روپے کے فنڈز کو کاروباری سہولت اور سرمایہ کاری سے متعلق اقدامات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دستیاب وسائل کو برآمدی شعبے کی مسابقت بہتر بنانے، کاروباری برادری کو سہولت دینے اور برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ای ڈی ایف بنیادی ڈھانچے پر اضافی اخراجات کے بجائے تحقیق، ہنرمندی کی ترقی، پیداواری صلاحیت اور مسابقت بڑھانے سے متعلق پروگراموں پر توجہ دے رہا ہے۔ حکام نے یورپی منڈی تک پاکستان کی ترجیحی رسائی برقرار رکھنے کے لیے جی ایس پی پلس انتظام کے تسلسل سے متعلق اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

وزیراعظم نے حکومتی معاشی پالیسی کے تناظر میں برآمدات پر مبنی نمو کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ نئے مالیاتی اور انشورنس آلات کاروباری اداروں کے لیے بیرونی منڈیوں میں کام کرنے کے خطرات کم کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ تاہم رسک پول کے عملی استعمال، اہلیت کے معیار، پریمیم، کلیم کے طریقہ کار اور ممکنہ کوریج کی تفصیلی شرائط اس رپورٹ میں بیان نہیں کی گئیں۔

اس مرحلے پر خبر کا بنیادی قابل تصدیق نکتہ یہ ہے کہ ای ڈی ایف اور ایگزم بینک کے ذریعے 3 ارب روپے کا برآمدی انشورنس رسک پول شروع کیا گیا ہے اور حکومت اسے ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے کریڈٹ انشورنس تک رسائی بڑھانے کی کوشش کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ اس پروگرام کے حقیقی اثرات کا اندازہ آئندہ اس کے استعمال، کلیمز اور برآمدی مالیات میں شرکت کے اعداد و شمار سے ہوگا۔