پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ 19 اگست سے ہیڈنگلے، لیڈز میں شروع ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلان کے مطابق بابر اعظم قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کریں گے۔ یہ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا حصہ ہے، اس لیے ہر میچ کے نتائج چیمپئن شپ پوائنٹس پر اثر ڈالیں گے۔

پہلا ٹیسٹ 19 سے 23 اگست تک کھیلا جائے گا۔ دوسرا میچ 27 سے 31 اگست تک لارڈز میں اور تیسرا ٹیسٹ 9 سے 13 ستمبر تک برمنگھم کے ایجبسٹن میدان میں مقرر ہے۔ پی سی بی کے مطابق میچ پاکستان کے وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے شروع ہوں گے۔ موسم اور مقامی حالات کے مطابق کھیل کے اوقات میں عملی تبدیلی ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے اعلان کردہ سترہ رکنی انگلینڈ اسکواڈ میں کپتان بابر اعظم کے ساتھ عبداللہ شفیق، امام الحق، محمد رضوان، سلمان علی آغا اور کئی دوسرے بیٹرز و آل راؤنڈرز شامل ہیں۔ فاسٹ بولنگ اور اسپن کے امتزاج کو انگلش کنڈیشنز کے مطابق ترتیب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ سعود شکیل کی شرکت کو فٹنس سے مشروط بتایا گیا تھا، اس لیے حتمی الیون اور دستیابی کا فیصلہ ٹیم انتظامیہ کی تازہ طبی اور تربیتی جانچ کے بعد ہوگا۔

ہیڈنگلے میں نئی گیند کی سوئنگ اور بدلتا موسم بیٹرز کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ پاکستانی اوپنرز کے لیے ابتدائی اوورز میں آف اسٹمپ کے باہر نظم و ضبط اہم ہوگا، جبکہ بولرز کو سازگار حالات میں درست لائن برقرار رکھنا ہوگی۔ پچ خشک ہونے یا دھوپ نکلنے کی صورت میں بیٹنگ آسان ہو سکتی ہے، اس لیے ٹاس اور سیشن کے حساب سے حکمت عملی بدل سکتی ہے۔

یہ پاکستان کا 2016 کے بعد انگلینڈ کا چوتھا ٹیسٹ دورہ ہے۔ دونوں ٹیموں کی باہمی ٹیسٹ تاریخ طویل ہے اور موجودہ دورہ ان کی انتیسویں باہمی سیریز ہوگا۔ انگلینڈ اپنے میدانوں اور تیز رفتار طرز کھیل کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا، جبکہ پاکستان کو طویل اننگز، نئی گیند کے خلاف صبر اور مواقع پر کیچنگ میں بہتری درکار ہوگی۔

حتمی ٹیم، ٹاس، موسم اور پچ کی صورت حال میچ کے آغاز پر واضح ہوگی۔ اس پیش منظر میں صرف پی سی بی کے جاری کردہ شیڈول اور اسکواڈ کی معلومات شامل ہیں؛ کسی کھلاڑی کی حتمی شرکت یا نتیجے کی پیش گوئی نہیں کی گئی۔ سیریز کا پہلا دن دونوں ٹیموں کے لیے چیمپئن شپ مہم کی سمت طے کرنے میں اہم ہوگا۔