پاکستان کرکٹ ٹیم کی انتظامیہ انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں 27 اگست سے شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے پلیئنگ الیون میں تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے۔ ایکسپریس نیوز کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق کپتان بابر اعظم کی واپسی کا امکان موجود ہے، تاہم ان کی شمولیت فٹنس کلیئرنس اور میچ سے قبل حتمی جائزے سے مشروط ہے۔ اس مرحلے پر کسی کھلاڑی کی شرکت یا اخراج کو حتمی ٹیم کا اعلان نہیں سمجھا جا سکتا۔

بابر اعظم پریکٹس میچ کے دوران انجری کے باعث سیریز کا پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر انہیں کھیلنے کی اجازت مل گئی تو اذان اویس کو پلیئنگ الیون سے باہر کیا جا سکتا ہے۔ یہ ٹیم مینجمنٹ کے زیر غور ایک امکان ہے؛ حتمی فیصلہ پچ، موسم، فٹنس اور مطلوبہ ٹیم توازن دیکھنے کے بعد ہوگا۔

وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کو دوسرے ٹیسٹ میں آرام دینے کا امکان بھی رپورٹ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ خشک اور اسپن کے لیے سازگار پچ کی صورت میں پاکستان دو اسپنرز کے ساتھ میدان میں اتر سکتا ہے۔ فاسٹ بولر عبید شاہ بھی ممکنہ شمولیت کے امیدواروں میں شامل بتائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں متبادل وکٹ کیپر یا دونوں اسپنرز کے ناموں کی مکمل حتمی فہرست نہیں دی گئی، اس لیے کسی مخصوص ترکیب کو یقینی نہیں کہا جا رہا۔

انگلینڈ نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو اننگز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کی تھی۔ اس پس منظر میں لارڈز ٹیسٹ پاکستان کے لیے سیریز میں واپسی کا اہم موقع ہے، مگر ٹیم کے انتخاب میں صرف گزشتہ نتیجہ نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی صحت، میدان کی ساخت اور گیند بازوں کے کام کے بوجھ کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

بابر اعظم کی ممکنہ واپسی بیٹنگ لائن کو تجربہ فراہم کر سکتی ہے، لیکن ٹیم انتظامیہ کا باضابطہ اعلان ہی قابل فیصلہ ہوگا۔ آئندہ پریکٹس، فٹنس رپورٹ اور ٹاس کے وقت جمع کرائی گئی پلیئنگ الیون سے واضح ہوگا کہ زیر غور تبدیلیوں میں سے کون سی نافذ کی گئیں۔ اردو ہیڈلائنز نے امکانات کو تصدیق شدہ انتخاب کے طور پر پیش نہیں کیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک