برمنگھم: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ایجبسٹن میں کھیلے جانے والے تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے پہلے دن بولرز کا غلبہ رہا اور مجموعی طور پر 14 وکٹیں گریں۔ پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 133 رنز پر آؤٹ ہوگئی، جس کے جواب میں انگلینڈ نے کھیل کے اختتام تک چار وکٹوں کے نقصان پر 156 رنز بنا کر 23 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی اور میزبان فاسٹ بولرز نے آغاز ہی سے دباؤ قائم کر دیا۔ پاکستان 10 اوورز کے اندر 26 رنز پر چار وکٹیں گنوا چکا تھا۔ سعود شکیل نے 47 گیندوں پر 43 رنز کی اننگز کھیل کر مزاحمت کی اور سات چوکے لگائے۔ نچلے نمبروں پر محمد عباس نے 21 رنز بنائے جبکہ ڈیبیو کرنے والے رضا اللہ نے 11 رنز کا حصہ ڈالا، لیکن پوری ٹیم 133 رنز سے آگے نہ بڑھ سکی۔
پاکستان نے میچ کے لیے غازی غوری، محمد عمران اور رضا اللہ کو ٹیسٹ ڈیبیو کرایا۔ سیریز کے پہلے دو میچ بھاری مارجن سے ہارنے کے بعد ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی تھیں، تاہم بیٹنگ لائن کی مشکلات تیسرے ٹیسٹ میں بھی برقرار رہیں اور پاکستان مسلسل پانچویں اننگز میں 200 رنز کا ہندسہ عبور نہ کرسکا۔
جواب میں پاکستان کے بولرز نے انگلینڈ کو مکمل طور پر آزاد نہیں چھوڑا۔ رضا اللہ نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں دو وکٹیں حاصل کیں اور انگلش کپتان جو روٹ کو اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ بنایا۔ دن کے اختتام پر انگلینڈ 156 رنز پر چار کھلاڑیوں سے محروم تھا۔ یوں میزبان ٹیم نے برتری ضرور حاصل کی، لیکن پاکستان کو دوسرے دن ابتدائی وکٹیں لے کر میچ میں واپس آنے کا موقع موجود ہے۔
انگلینڈ پہلے ہی تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری رکھتا ہے، اس لیے پاکستان کے لیے ایجبسٹن ٹیسٹ سیریز بچانے کے بجائے وائٹ واش سے بچنے اور دورے کا بہتر اختتام کرنے کا موقع ہے۔ پہلے دن کے کھیل نے واضح کیا کہ پچ پر بولرز کے لیے مدد موجود ہے، اس لیے دوسری صبح انگلینڈ کی باقی وکٹیں جلد حاصل کرنا پاکستان کی واپسی کے لیے بنیادی شرط ہوگی۔




