وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائین سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس تجارتی فریم ورک کے تحت مسلسل روابط کی اہمیت پر زور دیا اور پاکستان۔یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر مکمل عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات میں اعلیٰ سطح کے رابطوں میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قیادت کی سطح پر مستقل رابطہ دوطرفہ تعلقات کو مزید سمت اور رفتار دے سکتا ہے۔ فریقین نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور مکالمے، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ شہباز شریف نے یورپی کونسل اور یورپی کمیشن کے صدور کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دہرائی۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائین نے ملاقات کے بعد کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے ساتھ اپنی شراکت داری کو اہمیت دیتی ہے اور بات چیت میں تجارت سے لے کر غیر قانونی ہجرت سے نمٹنے تک مختلف امور زیر غور آئے۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

جی ایس پی پلس پاکستان کی یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی کے لیے اہم تجارتی انتظام ہے اور اس کے ساتھ انسانی حقوق، مزدور حقوق، ماحولیات اور اچھی حکمرانی سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز کی شرائط وابستہ ہیں۔ موجودہ یورپی فریم ورک سال کے اختتام پر ختم ہونا ہے، جبکہ نئے نظام میں موجودہ مستفید ممالک کے لیے عبوری مدت رکھی گئی ہے۔ یورپی کمیشن کی حالیہ جائزہ رپورٹ میں پاکستان کے بعض شعبوں میں پیش رفت کے ساتھ کئی تعمیلی خدشات بھی بیان کیے گئے تھے۔ اس پس منظر میں اسلام آباد اور برسلز کے درمیان رابطے پاکستان کی برآمدات اور مستقبل کی تجارتی ترجیحات کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔