لاہور: پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس نے کہا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو زیادہ برآمدات، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کاروباری اداروں کے براہ راست روابط کے ذریعے مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات آل پاکستان بزنس فورم کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں مشترکہ منصوبوں، یورپی منڈی تک جی ایس پی پلس رسائی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت اور یورپی مارکیٹ میں ابھرنے والے ضابطہ جاتی تقاضوں پر گفتگو ہوئی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پاکستان اور یورپی یونین کے اقتصادی روابط کا حجم 12.2 ارب یورو بتایا گیا اور فریقین نے اسے مزید بڑھانے کے امکانات پر بات کی۔

یورپی سفیر نے کہا کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس اسکیم سے نمایاں فائدہ اٹھایا ہے، تاہم مزید فوائد کے لیے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے متعلقہ کنونشنز پر مکمل عمل درآمد، برآمدی بنیاد میں تنوع، مصنوعات میں قدر افزائی اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اہم ہوگی۔ جی ایس پی پلس پاکستان کو یورپی منڈی میں متعدد مصنوعات کے لیے ترجیحی تجارتی رسائی فراہم کرتا ہے، جس کے ساتھ بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کی شرائط بھی منسلک ہیں۔

آل پاکستان بزنس فورم کے وفد میں صدر سید معاذ محمود، سیکریٹری جنرل عامر منیر ملک اور مختلف صنعتی و تجارتی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔ شرکا نے کاروباری روابط، صنعتی تعاون، تربیت اور سرمایہ کاری کے ان شعبوں پر تبادلہ خیال کیا جہاں نجی شعبہ دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو وسیع کر سکتا ہے۔

ملاقات میں چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کی صلاحیت بڑھانے اور فنی و پیشہ ورانہ تربیت کو صنعت کی ضروریات سے جوڑنے پر بھی زور دیا گیا۔ یورپی منڈی میں ماحولیاتی، محنت، مصنوعات کے معیار اور دیگر ضابطہ جاتی تقاضے بتدریج سخت ہو رہے ہیں، اس لیے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے ان قواعد سے ہم آہنگی تجارتی رسائی برقرار رکھنے اور نئی مصنوعات متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

سفیر کا بیان دوطرفہ تجارت کے لیے ممکنہ مواقع کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم برآمدات یا سرمایہ کاری میں آئندہ اضافے کا کوئی حتمی نتیجہ اس ملاقات سے طے نہیں ہوا۔ عملی پیش رفت کا انحصار کاروباری معاہدوں، سرمایہ کاری کے فیصلوں، پاکستانی صنعت کی مسابقت، یورپی ضابطوں کی تعمیل اور جی ایس پی پلس سے متعلق جاری ذمہ داریوں سمیت متعدد عوامل پر ہوگا۔