پاکستان ہاکی فیڈریشن نے امید ظاہر کی ہے کہ یورپ کی نمایاں ہاکی ٹیمیں آئندہ سال پاکستان کا دورہ کرسکتی ہیں۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق یہ امکان پی ایچ ایف کے صدر محی الدین احمد وانی کی برسلز میں ایف آئی ایچ ورلڈ کانفرنس کے موقع پر ہونے والی ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا۔ فیڈریشن نے ابھی کسی مخصوص ٹیم، دورے کی تاریخ یا میچوں کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا، اس لیے اس پیش رفت کو طے شدہ سیریز کے بجائے جاری رابطوں اور مثبت امکانات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ محی الدین وانی نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے صدر طیب اکرام سے ملاقات کی۔ گفتگو میں عالمی سطح پر پاکستان ہاکی کی موجودگی مضبوط بنانے، بین الاقوامی روابط بڑھانے اور ملک میں عالمی معیار کی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات ایف آئی ایچ کانفرنس کے موقع پر ہوئی جہاں مختلف رکن فیڈریشنوں کے نمائندے موجود تھے۔
پی ایچ ایف صدر نے مختلف ممالک کی ہاکی فیڈریشنوں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ رپورٹ کے مطابق ان رابطوں میں باہمی تعاون، پاکستان میں کھیل کے فروغ، بین الاقوامی ٹیموں کے دوروں اور قومی ٹیم کو زیادہ عالمی مقابلوں کا تجربہ دینے کے امکانات زیر بحث آئے۔ فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ مستقل بین الاقوامی روابط سے پاکستان میں اعلیٰ سطح کی ہاکی کی واپسی کے لیے راستہ بن سکتا ہے۔
دورۂ پاکستان کی عملی شکل کا انحصار متعلقہ یورپی فیڈریشنوں کی حتمی منظوری، دستیابی، سکیورٹی اور انتظامی منصوبہ بندی پر ہوگا۔ موجودہ رپورٹ میں کسی باضابطہ معاہدے یا فکسچر کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اگلی قابلِ تصدیق پیش رفت اس وقت ہوگی جب پی ایچ ایف یا کسی متعلقہ غیر ملکی فیڈریشن کی جانب سے ٹیم، تاریخ، مقام اور میچوں کی تفصیل جاری کی جائے گی۔
پاکستان ہاکی کے لیے بین الاقوامی ٹیموں کی میزبانی کھیل کے مقامی ماحول، کھلاڑیوں کے تجربے اور شائقین کی دلچسپی کے لحاظ سے اہم ہوسکتی ہے، تاہم فی الحال خبر کا بنیادی نکتہ مذاکرات اور امید ہے، مکمل شدہ انتظام نہیں۔ پی ایچ ایف نے کہا ہے کہ عالمی ہاکی برادری کے ساتھ روابط مضبوط بنانے اور قومی ٹیم کو زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی ایکسپوژر فراہم کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔




