اسلام آباد: پاکستان کی اشیائی برآمدات مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 10.84 فیصد بڑھ کر 8.43 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 7.59 ارب ڈالر تھا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں بہتری کے باوجود درآمدات کے تیز اضافے نے مجموعی تجارتی خسارے کو مزید وسیع کر دیا۔

جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران درآمدات 13.21 فیصد بڑھ کر 19.22 ارب ڈالر رہیں، جو ایک سال پہلے 16.97 ارب ڈالر تھیں۔ اس فرق کے نتیجے میں پہلی سہ ماہی کا تجارتی خسارہ 15.13 فیصد اضافے کے ساتھ 10.79 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں خسارہ 9.37 ارب ڈالر تھا۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ برآمدی آمدن میں اضافہ ہوا، مگر درآمدی بل کی رفتار اس سے زیادہ رہی۔

ستمبر 2026 میں برآمدات سالانہ بنیاد پر 17.61 فیصد بڑھ کر 2.94 ارب ڈالر ہوئیں، جو گزشتہ سال اسی مہینے میں 2.49 ارب ڈالر تھیں۔ اگست کے مقابلے میں بھی برآمدات میں 16.07 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب ستمبر میں درآمدات 6.49 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ایک سال پہلے 5.84 ارب ڈالر تھیں۔ نتیجتاً اسی مہینے کا تجارتی خسارہ 6.15 فیصد بڑھ کر 3.55 ارب ڈالر رہا۔

ڈان نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مالی سال 2026 میں برآمدات 5.97 فیصد کم ہو کر 32.04 ارب ڈالر رہی تھیں اور سالانہ ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکا تھا۔ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں برآمدی نمو اس پس منظر میں ایک بہتری ہے، تاہم درآمدی دباؤ کے باعث بیرونی تجارت کا مجموعی توازن بدستور منفی ہے۔

برآمد کنندگان کے نمائندوں نے بلند پیداواری لاگت، ٹیکسوں، ریفنڈز میں تاخیر اور علاقائی مسابقت کے مسائل کو اہم رکاوٹیں قرار دیا ہے۔ یہ صنعت کے نمائندوں کا مؤقف ہے، جبکہ حتمی پالیسی اثرات کا اندازہ آئندہ مہینوں کے اعداد و شمار سے زیادہ واضح ہوگا۔ موجودہ اعداد و شمار کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ برآمدات بڑھی ہیں، لیکن درآمدات میں زیادہ تیز اضافے کی وجہ سے تجارتی خسارہ بھی بڑھا ہے۔