پاکستان میں مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں سالانہ بنیاد پر 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بزنس ریکارڈر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اس مدت میں ایف ڈی آئی کا حجم 49 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 39 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تھی۔ یوں سال بہ سال تقریباً 9 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔

اگست 2026 میں سرمایہ کاری کی رفتار جولائی کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ رپورٹ کے مطابق صرف اگست میں 31 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آئی، جبکہ اگست 2025 میں یہ حجم 17 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا۔ اس طرح اگست میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 80 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 77 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ملک وار اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین سے آنے والی سرمایہ کاری جولائی اور اگست میں بڑھ کر 17 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہو گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 12 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھی۔ متحدہ عرب امارات سے ایف ڈی آئی بھی 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 5 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہو گئی۔

ٹاپ لائن سکیورٹیز کے تجزیے کے مطابق بجلی کے شعبے اور مالیاتی کاروبار نے زیرِ جائزہ مدت میں نمایاں سرمایہ کاری حاصل کی، جبکہ ملک وار سطح پر چین، کینیڈا اور متحدہ عرب امارات بڑے خالص سرمایہ کاروں میں شامل رہے۔ یہ اعداد و شمار مختلف شعبوں اور ممالک سے آنے والی رقوم کی مجموعی سمت دکھاتے ہیں، تاہم کسی ایک ماہ کا اضافہ طویل مدتی سرمایہ کاری رجحان کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کسی ملک میں بیرونی کمپنیوں یا سرمایہ کاروں کی ایسی سرمایہ کاری کو کہا جاتا ہے جس میں کاروباری اثاثوں، حصص یا انتظامی مفاد میں نسبتاً طویل مدتی حصہ شامل ہو۔ پاکستان کے لیے ایف ڈی آئی زرمبادلہ کی آمد، صنعتی توسیع اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم اشارہ سمجھی جاتی ہے۔

مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے یہ اعداد و شمار مثبت سالانہ اضافہ دکھاتے ہیں، لیکن پورے مالی سال کی مجموعی کارکردگی کا تعین آئندہ مہینوں کی سرمایہ کاری، عالمی معاشی حالات، ملکی پالیسی ماحول اور بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے تسلسل سے ہوگا۔