اسلام آباد: حکومت نے پاکستان کی بجلی مارکیٹ میں مسابقت بڑھانے کے منصوبے کے تحت پہلی 400 میگاواٹ وہیلنگ نیلامی کے لیے بولیاں طلب کر لی ہیں۔ پاور ڈویژن کی جانب سے درخواستوں کی طلبی کو اس پالیسی تبدیلی کا عملی مرحلہ قرار دیا گیا ہے جس کے تحت حکومت بتدریج بجلی کی براہ راست خریداری کے روایتی کردار سے پیچھے ہٹنا چاہتی ہے۔
وہیلنگ کے نظام میں بجلی پیدا کرنے والا ادارہ ترسیلی اور تقسیمی نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے کسی اہل صارف کو براہ راست بجلی فروخت کر سکتا ہے، جبکہ نیٹ ورک کے استعمال کے لیے متعلقہ چارجز ادا کیے جاتے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس طریقہ کار سے واحد خریدار پر مبنی موجودہ ڈھانچے کے بجائے زیادہ مسابقتی مارکیٹ تشکیل دی جا سکے گی۔
وزیر توانائی کے مطابق ابتدائی مرحلے میں یہ نظام صنعتی اور بڑے صارفین کے لیے ہوگا، بالخصوص ان صارفین کے لیے جن کی طلب ایک میگاواٹ سے زیادہ ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ تجربے اور مارکیٹ کے پھیلاؤ کے ساتھ اس دائرے کو مزید وسیع کیا جائے۔ وزیر نے کہا کہ طویل مدت میں عام صارفین کو بھی اپنی پسند کے بجلی فراہم کنندہ سے خریداری کے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں، تاہم یہ مستقبل کے مرحلے سے متعلق حکومتی ہدف ہے، موجودہ نیلامی کی فوری سہولت نہیں۔
پاور سیکٹر میں یہ تبدیلی ایسے وقت کی جا رہی ہے جب بجلی کی لاگت، گردشی قرض، معاہداتی ادائیگیاں اور صنعتی مسابقت مسلسل پالیسی مباحث کا حصہ ہیں۔ مسابقتی مارکیٹ کا عملی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ نیٹ ورک چارجز، ترسیلی گنجائش، معاہدوں، ادائیگیوں اور ریگولیٹری نگرانی کے قواعد کس طرح نافذ ہوتے ہیں۔
400 میگاواٹ کی پہلی نیلامی اس لیے اہم ہے کہ اس سے نجی خریداروں اور بجلی پیدا کرنے والوں کے براہ راست معاہدوں کے لیے عملی فریم ورک کی آزمائش ہوگی۔ بولیوں کے نتائج، قیمتوں اور شرائط سے یہ اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ صنعتی صارفین اس ماڈل میں کتنی دلچسپی لیتے ہیں اور موجودہ بجلی نظام میں مسابقتی تجارت کے لیے کتنی گنجائش موجود ہے۔
حکومت نے اس اقدام کو بجلی کی خرید و فروخت میں اپنے روایتی کردار کو محدود کرنے کی سمت قدم قرار دیا ہے، لیکن مکمل مسابقتی مارکیٹ کا قیام مرحلہ وار عمل ہوگا۔ اس لیے پہلی نیلامی کو وسیع اصلاحاتی عمل کا آغاز سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ موجودہ نظام کے فوری مکمل خاتمے کے طور پر۔
